تیمارداری کے سفر میں آپ کا ہم قدم

گھر میں انفیکشن پھیلنے کی وجوہات


تجدید شدہ:

|


کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ لوگوں کو یہ علم نہیں تھا کہ انفیکشن نظر نہ آنے والے جراثیموں کی وجہ سے ایک جسم سے دوسرے جسم تک پھیل سکتی ہیں۔ حتیٰ کہ آج بھی لوگوں کو یہ تو معلوم ہے کہ یہ جراثیم بیماریاں پھیلاتے ہیں لیکن ابھی بھی بہت سے لوگوں کو یہ علم نہیں ہے کہ گھروں میں انفیکشن کے پھیلنے کو کیسے روکا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ گھر میں انفیکشن کی وجوہات اتنی کثیر اور پیچیدہ ہو سکتی ہیں جو بظاہر نظر بھی نہیں آتیں۔

ایک بات طے ہے کہ تمام جراثیم باہر سے جسم کے اندر داخل ہو کر انفیکشن کا باعث بنتے ہیں۔ یہ جراثیم منہ، ناک، کان، کھلے زخموں، مقعد یا جنسی اعضاء کے ذریعےجسم میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ جلد کے راستے اور کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے سے بھی داخل ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا انفیکشن سے بچاؤ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ گھر کو جراثیموں سے پاک رکھا جائے اور ان تمام بنیادی عوامل کو سمجھا جائے جو ماحول، حفاظتی سامان کی عدم دستیابی اور تیماردار کی معلومات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم انہی عوامل کے بارے میں بات کریں گے۔

ایک ضروری بات یہ کہ ہم جانتے ہیں کہ بطور تیماردار  آپ دن رات مریض کی دیکھ بھال میں اپنا تن من دھن لگا دیتے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد آپ کی محنت پر سوال اٹھانا نہیں، بلکہ ان چھپے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرنا ہے جو گھر میں انفیکشن پھیلانے کا باعث بنتے ہیں،  تاکہ آپ انہیں سمجھ کر اپنے پیاروں کو مزید محفوظ رکھ سکیں۔

 1. انفیکشن اور کا ماحول


 بکھرے ہوا اور گندا گھر ۔ انفیکشن کی وجہ

گھر میں انفیکشن کی وجوہات میں گھر کے اندر سامان اور چیزوں کا بکھرا ہونا  بھی شامل ہے۔ بکھرا ہوا سامان نہ صرف ہوا کی آمدورفت میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ ان کے نیچے گرد و غبار اور جراثیم کی ایسی تہیں جمع ہو جاتی ہیں جن کی روزمرہ صفائی ممکن نہیں رہتی۔ یہ گرد اور جراثیم وقت کے ساتھ ساتھ سانس اور الرجی کے مسائل بڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ فرش، سلیب یا کونوں میں گندگی کا جمنا بیکٹیریا اور فنگس کے لیے بہترین افزائش گاہ فراہم کرتا ہے۔ اگر گھر کے اندر کی صفائی کے معیار کو مستقل برقرار نہ رکھا جائے تو پورا ماحول جراثیم کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔

گھر کے ماحول کو جراثیم سے پاک رکھنے اور صفائی کی درست طریقے جاننے کے لیے ہماری یہ تفصیلی گائیڈ پڑھیں:  گھر کی سطحوں اور فرنیچر کی درست جراثیم کشی کیسے کریں؟

گھر میں نامناسب روشنی

سورج کی قدرتی روشنی اور الٹراوائلٹ (UV) شعاعیں قدرتی طور پر جراثیم کش ہوتی ہیں۔ جن کمروں میں روشنی کا مناسب انتظام نہ ہو اور اندھیرا رہتا ہو، وہاں نمی، پھپھوندی اور وائرس طویل عرصے تک پیدا اور زندہ رہتے ہیں۔جس گھر میں نمی زیادہ  ہو اور ہوا کا گزر نہ ہو وہاں انفیکشن پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے مریض اور کمزور قوت مدافعت والے مریضوں کو گھر کے اس کمرے میں رکھیں جہاں قدرتی روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام ہو۔

 پالتو جانور یا پرندے

اگرچہ پالتو جانور اور پرندے گھر میں سکون کا باعث بنتے ہیں، لیکن یہ گھر میں انفیکشن کے پھیلاؤ  کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔  ان کے بال، پر، فضلے اور جسمانی جراثیم فضائی الرجی اور جلد کی مختلف بیماریوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر کمزور قوتِ مدافعت والے مریضوں کے لیے پالتو جانور یا پرندوں سے دور رہنا بہتر ہے۔

 مریض کی ناقص ذاتی صفائی

اگر مریض کی جسمانی صفائی کو نظر انداز کیا جائے، مثلاً ناخن وقت پر نہ کٹنا، جلد پر پسینہ اور گندگی کا جمنا یا گندے کپڑے پہننا—تو جلد، زخموں اور سانس کے سنگین انفیکشنز کا خطرہ کثیر المیعاد طور پر بڑھ جاتا ہے۔  لیکن آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ہماری گائیڈ گھر پر انفیکشن کنٹرول: ہاتھ دھونے اور صفائی کے بنیادی اصول کا مطالعہ کریں اور جانیں کہ مریض کی ذاتی صفائی کا خیال کیسے رکھا جا سکتا ہے۔

کھانے پینے کی چیزوں کی ناقص حفاظت

گھر میں انفیکشن کھانے پینے کی چیزوں سے بھی پھیل سکتی ہے۔ اگر کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانپ کر نہ رکھا جائے تو مکھیوں اور دیگر کیڑے مکوڑوں کے ذریعے جراثیم ان میں سرایت کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھانا پکاتے وقت صفائی کا خیال نہ رکھنا، کھانے کا اچھی طرح پکا ہوا نہ ہونا، سبزیوں اور پھلوں کو اچھی طرح نہ دھونا، کھانے پینے کی چیزوں کا باسی ہو جانا وہ عوامل ہیں جو جراثیموں کی افزائش کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناقص غذا بھی مریض یا بزرگ افراد کے اندر قوت مدافعت کی کمی کا سبب بنتی ہے جس سے وہ انفیکشن کا جلد شکار ہو جاتے ہیں۔

 وبائی امراض

جب علاقے یا شہر میں وبائی امراض (Epidemics/Pandemics) پھیلے ہوں تو گھر کے اندرونی ماحول کا احتیاطی انتظام مزید حساس ہو جاتا ہے۔ ایسے میں باہر سے آنے والی معمولی سی آلودگی بھی پورے گھر میں انفیکشن یا بیماری پھیلا سکتی ہے۔

پانی کا ٹھہرا ہونا

گھر کے باہر یا اندر باتھ روم، کچن، لان یا گملوں میں کھڑا پانی مچھروں اور خطرناک بیکٹیریا کی افزائش کا سبب بنتا ہے، جو ڈینگی، ملیریا اور پیٹ کے انفیکشنز کو دعوت دیتا ہے۔

 سرکش اولاد اور ناواقف افراد کا رویہ

جب گھر کے افراد یا بچے صفائی کے بنیادی اصولوں پر عمل کرنے سے انکار کرتے ہیں یا مریض کے کمرے میں بار بار بغیر ہاتھ دھوئے آمدورفت رکھتے ہیں، تو وہ گھر میں وائرس اور بیکٹیریا کی منتقلی کا سب سے بڑا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

 2. مناسب سامان کی عدم دستیابی


محفوظ حفاظتی لباس کا نہ ہونا

مناسب گاؤن یا حفاظتی لباس کے بغیر مریض کی روزانہ دیکھ بھال کرنے سے تیماردار کے اپنے کپڑے مریض کے جراثیم یا آلودگی سے متاثر ہو جاتے ہیں، جو بعد میں گھر کے دیگر حصوں میں منتقل ہوتے ہیں۔

 حفاظتی دستانوں (Protective Gloves) کی عدم دستیابی

مریض کے زخموں، ڈائپر، یا جسمانی رطوبتوں کی صفائی کے دوران دستانوں کا استعمال نہ کرنا تیماردار کے ہاتھوں پر براہِ راست خطرناک جراثیم منتقل کر دیتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف مریض کے لیے خطرے کا باعث بنتا ہے بلکہ خود تیماردار کی صحت کے لیے نقصان دہ اور گھر کے دیگر افراد تک انفیکشن پھیلانے کی وجہ بن سکتا ہے۔

فیس ماسک (Face Mask) کا نہ ہونا

سانس کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں، کھانسی یا نزلہ کے دوران گھر میں فیس ماسک کا استعمال نہ کرنا مریض اور تیماردار دونوں کے لیے ایک دوسرے سے انفیکشن منتقل کرنے کا باعث بنتا ہے۔

 ہاتھ دھونے کے لیے مناسب انتظام کا نہ ہونا

اگر مریض کے کمرے کے قریب بیسن، صاف پانی یا ہاتھ دھونے کی سہولت نہ ہو تو تیماردار کے لیے بار بار ہاتھ دھونا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے صفائی کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں تیماردار خود نہ صرف مریض کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ پورے گھر میں انفیکشن پھیلانے کا سبب بن جاتا ہے۔

ہینڈ سینیٹائزر (Hand Sanitizer) کا نہ ہونا

ایمرجنسی میں یا جلدی کے کاموں کے دوران جب پانی تک فوراً رسائی نہ ہو، تو ہینڈ سینیٹائزر کی عدم دستیابی کی وجہ سے تیماردار بغیر ہاتھ صاف کیے مریض یا اس کے سامان کو چھو لیتا ہے۔

پانی اور صابن کی کمی

گھر میں صاف پانی اور صابن کی مستقل کمی بنیادی حفظانِ صحت کے پورے نظام کو مفلوج کر دیتی ہے، جس سے جراثیم کو پھیلنے کا آزادانہ موقع ملتا ہے۔

 الکوحل سویبز (Alcohol Swabs) کا استعمال نہ کرنا

انجکشن لگانے، شوگر ٹیسٹ کرنے یا جلد کی مخصوص صفائی کے لیے الکوحل سویبز کا استعمال نہ کرنا جراثیم کو جلد کے مساموں کے ذریعے اندر منتقل ہونے کا موقع دیتا ہے۔

صفائی کے لیے مناسب کپڑوں یا کیمیکلز (Disinfectants) کا نہ ہونا

گھر کی سطحوں، فرنیچر اور برتنوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے مناسب جراثیم کش کیمیکلز اور مخصوص صاف کپڑوں کا نہ ہونا صرف ظاہری صفائی کرتا ہے مگر جراثیم کو ختم نہیں کرتا۔

گھر میں مریض کی دیکھ بھال کے دوران غیر محسوس انداز میں ہونے والی غلطیوں اور انفیکشن سے بچنے کے لیے درج ذیل گائیڈ کی مدد لیں: صفائی اور جراثیم کشی کے دوران کی جانے والی عام غلطیاں

 ڈسٹ بن کا مناسب استعمال نہ کرنا

استعمال شدہ ڈائپرز، کاٹن یا پٹیوں کو کھلے کوڑے دان میں ڈالنا یا ڈسٹ بن کا ڈھکن نہ ہونا جراثیم کو ہوا اور مکھیوں کے ذریعے پورے گھر میں پھیلا دیتا ہے۔

 مناسب مالی وسائل کی کمی (Financial Constraints)

گھر میں انفیکشن کے پھیلنے اور حفظانِ صحت کے معیار کو برقرار نہ رکھ پانے کی ایک بہت بڑی اور بنیادی وجہ مناسب مالی وسائل کا نہ ہونا ہے۔ جب بجٹ محدود ہو تو خاندان کے لیے معیاری جراثیم کش کیمیکلز، سینیٹائزرز اور اینٹی سیپٹک صابن کا باقاعدہ خریدنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی مالی تنگی کی وجہ سے تیماردار اکثر ڈسپوزایبل چیزوں مثلاً حفاظتی دستانوں (Gloves)، فیس ماسکس اور ڈائپرزکو بار بار استعمال کرنے یا بروقت نہ بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو جراثیم کی افزائش اور شدید انفیکشن کا باعث بنتا ہے۔

 3. تیماردار پر منحصر عوامل


علاقائی رسم و رواج

بسا اوقات گھریلو روایات اور غیر سائنسی مفروضے صفائی کے طبی اصولوں کے آڑے آ جاتے ہیں؛ جیسے مریض کو ہوا نہ لگنے دینے کے وہم میں تمام کھڑکیاں مستقل بند رکھنا یا جراثیم کش ادویات کے بجائے غیر مستند ٹوٹکوں پر تکیہ کرنا۔

تیماردار کی تعلیم

تیماردار کا بنیادی طور پر تعلیم یافتہ ہونا اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ ادویات کا صحیح استعمال اور ہدایات، جراثیم کش کیمیکلز کا صحیح تناسب اور احتیاطی تدابیر کی تحریری رہنمائی کو آسانی سے سمجھ سکے۔

 تیماردار کو گھر کا خیال رکھنے کا مناسب علم نہ ہونا

بعض اوقات  تیماردارکو گھر کے ماحول سے آگاہی یا اس کو صاف رکھنے کے نظام کا علم نہیں ہوتا۔ ایسے میں گھر میں انفیکشن کے پھیلنے کے امکانات کافی زیادہ ہوجاتے ہیں۔ یا اگر تیماردار کی معلومات محدود ہوں اور  اسے صرف دھول جھاڑنے (Dusting) اور "جراثیم کشی” (Disinfection) میں فرق معلوم نہ ہو، تو وہ ظاہری صفائی تو رکھے گا لیکن جراثیم ختم نہیں ہوں گے۔

 انفیکشن سے متعلق ناقص معلومات

انفیکشن کے پھیلنے کے ذرائع سے ناواقفیت کی وجہ سے تیماردار یہ نہیں سمجھ پاتا کہ بیماریاں کس طرح ایک سطح یا شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ احتیاطی تدابیر کو غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔

انفیکشن سے پھیلنے والی عام بیماریاں


گھر کے ماحول میں پھیلے جراثیم کے نتیجے میں متعدد انفیکشن سے پھیلنے والی بیماریاں (Infectious Diseases) جنم لے سکتی ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • گلے کی خرابی (Sore Throat): وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے گلے میں سوزش، درد اور نگلنے میں دشواری ہوتی ہے۔
  • آنکھوں کی بیماری (Pink Eye / Conjunctivitis): آلودہ ہاتھوں، تولیے یا جراثیم سے آنکھوں کی جھلی کی سوزش اور سرخ ہونا۔
  • پیشاب کی نالی کی انفیکشن (UTI): ناقص ذاتی صفائی، ڈائپر کے نامناسب استعمال اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہونے والا عام مگر شدید دردناک انفیکشن۔
  • جلد کے انفیکشن (Skin & Wound Infections): بیڈ سورز (Bedsores) یا خراشوں پر بیکٹیریا کے حملے سے بننے والے زخم۔
  • آنتوں اور پیٹ کا انفیکشن (Gastroenteritis): آلودہ برتنوں، اسفنج یا ہاتھوں کے ذریعے پیٹ میں جانے والے جراثیم سے الٹی اور اسہال۔

تیمارداروں کے لیے اہم مشورہ


یاد رکھیں: انفیکشن سے بچاؤ کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ یہ ماحول کی ترتیب، درست حفاظتی سامان کے استعمال اور صحیح معلومات کے امتزاج سے ممکن ہوتا ہے۔ اپنے گھر میں روزانہ کی بنیاد پر صفائی کے بنیادی اصولوں کو عادت بنائیں اور انفیکشن سے محفوظ رہیں۔

حوالہ جات