تیمارداری کے سفر میں آپ کا ہم قدم

مریض کی روزمرہ صفائی میں مدد کرنا


تجدید شدہ:

|


مریض کی روزمرہ ذاتی صفائی جیسے نہلانا، منہ کی صفائی، یا شیو بنانے میں مدد کرنا مریض اور تیماردار کے درمیان محبت اور خلوص کے رشتے کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر مریض خود سے اپنی صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھ سکتا تو تیماردار کا فرض ہے کہ اس سلسلے میں اس کی مدد کرے۔  جسمانی صفائی صرف جراثیم سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ مریض کی ذہنی صحت، عزتِ نفس اور تازگی کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ کینسر، فالج یا کسی بھی طویل علالت کے دوران مریض کی قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی ہے، جہاں صفائی میں معمولی سی غفلت بھی بڑے انفیکشن کا سبب بن سکتی ہے۔ اس گائیڈ میں ہم تیمارداروں کے لیے ان بنیادی مہارتوں کو انتہائی آسان اور عملی اقدامات میں سمجھائیں گے تاکہ آپ اپنے پیارے کو ایک محفوظ اور باوقار زندگی فراہم کر سکیں۔

1۔ نہانے میں مدد کرنا


نہلانا مریض کی جلد کو صاف رکھنے اور خون کی گردش کو بہتر بنانے کے لیے بہت اہم ہے،  لیکن کبھی کبھی یہ کام مریض یا تیماردار کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ اگر یہ  عمل  ٹھیک سے نہ کیا جائے تو  مریض کو بے پردہ ہونے کا احساس ،  مزید بیمار ہونے یا سردی لگنے کے خدشے کا شکار کرسکتا ہے۔ اسے یہ بھی خطرہ ہو سکتا ہے کہ کہیں آپ ناراض نہ ہو جائیں۔ لہذا مریض کے ساتھ محبت، احترام اور صبر کے ساتھ پیش آئیں۔

یاد رکھنے کی باتیں:

مریض کی حفاظت کے لیے باتھ روم میں نہانے والی کرسی، نان سلپ میٹ اور پکڑنے والے ہینڈلز تاکہ روزمرہ صفائی اور غسل محفوظ طریقے سے سرانجام دیا جاسکے۔
  • جلدی نہ کریں۔
  • نہانے کے لیے ایک محفوظ اور پردہ دار ماحول بنائیں۔
  • مریض کو زیادہ سے زیادہ آزادی دیں۔ جتنا زیادہ آپ اس کے پاس کھڑے رہ سکتے ہیں کھڑے رہیں اور اسے خود کرنے دیں۔
  • تمام اقدامات پر نرمی سے سمجھائیں کہ آپ اگلا کیا کام کرنے جا رہے ہیں۔
  • اگر مریض کو ڈیمنشیا ہے تو اسے آپ کی زیادہ مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس لیے اسے کر کے دکھائیں۔

باتھ روم کا گیلا فرش حادثات کے لحاظ سے سب سے خطرناک جگہ ہے۔ یہاں مریض کی حفاظت سب سے پہلا اصول ہے۔ گرنے سے بچانے کے لیے باتھ روم میں نان-سلپ میٹ (پھسلن سے بچانے والا چٹائی) بچھائیں اور مریض کے بیٹھنے کے لیے ایک مضبوط، واٹر پروف پلاسٹک کی کرسی کا انتظام کریں۔ اگر ممکن ہو تو دیواروں پر پکڑنے والے ہینڈلز (Grab Bars) نصب کروائیں۔ مریض کی روزمرہ دیکھ بھال اور صفائی کے لیے باتھ روم اور گھر کے دیگر حصوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہماری گائیڈ "مریض کی محفوظ دیکھ بھال کے لیے گھر کو تیار کرنا” کا ضرور مطالعہ کریں۔

باتھ روم میں نہلانے کا طریقہ:


پیشگی تیاری:

نہلانے سے پہلے تمام ضروری سامان (تولیہ، صابن، شیمپو، صاف کپڑے، اور موئسچرائزر) باتھ روم میں ایک جگہ رکھ لیں۔اس کے بعد مریض کو باتھ روم میں رکھی نہانے کی کرسی پر بٹھائیں۔ مریض کو کبھی بھی باتھ روم میں اکیلا نہ چھوڑیں۔

پانی کا درجہ حرارت:

پانی نہ تو بہت گرم ہو اور نہ ہی بہت ٹھنڈا۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق  نہانے کے لیے پانی کا درجہ حرارت115 ڈگری فارن ہائیٹ (تقریباً 46 ڈگری سینٹی گریڈ)  تک ہونا چاہیے۔  اپنے ہاتھ کی پشت یا کہنی سے پانی کا درجہ حرارت خود چیک کریں۔ اگر مریض کو پانی کے ٹھنڈے یا گرم ہونے کا خوف ہے تو اس کے ہاتھ پر تھوڑا سا پانی ڈال کر اسے چیک کروائیں اور جب وہ مطمئن ہو تو اگلا قدم اٹھائیں۔

چہرہ دھلوانا:

سب سے پہلے مریض کے ہاتھ دھلوائیں، اس سے مریض کو پانی کے ٹھنڈا یا گرم ہونے کا خوف جاتا رہے گا۔اس کے بعد نہانے کا باقاعدہ آغاز چہرے سے کریں۔ اگر مریض کی طبی حالت ایسی ہے کہ اس کا چہرہ صابن سے دھویا جا سکتا ہے تو کسی ہلکے صابن یا فیس واش سے دھو سکتے ہیں۔ اگر جلد حساس ہو یا آنکھوں میں جلن کا خطرہ ہو تو صرف پانی یا ہلکا کلینزر بہتر ہے۔

سر دھونا:

چہرہ دھونے کے بعد مریض کا سر دھلوائیں یا دھونے میں مدد کریں۔ اگر ممکن ہے تو مریض کو کہیں کہ وہ سر تھوڑا آگے کی طرف جھکائے۔ سر پر شاور یا مگ کی مدد سے آہستہ آہستہ  بالوں پر پانی ڈالیں ۔ یکدم پورے جسم پر پانی ڈالنے سے گریز کریں۔   پھر شیمپو لگا کر نرمی سے سر (Scalp) کی مالش کریں۔ اگر یہ کام مریض خود کر سکتا ہے تو اسے کرنے دیں۔  اس کے بعد شیمپو کو اچھی طرح پانی سے دھو دیں۔ ضرورت کے مطابق شیمپو لگانے اور دھونے کا عمل دہرائیں۔ اگر کنڈیشنر کی ضرورت ہو تو اسی طریقے سے لگائیں اور اچھی طرح دھو دیں۔

کوشش کریں کہ آنکھوں کے لیے محفوظ شیمپو (No-Tear Shampoo) استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن نہیں تو احتیاط کریں کہ شیمپو یا صابن آنکھوں میں نہ جائے۔  اگر ضرورت محسوس ہو تو مریض کے بالوں کو تولیے کی مدد سے نرمی سے تھوڑا خشک کر دیں یا اگر خاتون مریضہ ہے تو اس کے بال تولیے میں لپیٹ کر سر کی چوٹی کی طرف ہلکے سے باندھ دیں یا شاور کیپ پہنا دیں۔

جسم کا اوپر والا حصہ دھونا:

اب ایک چھوٹا صاف تولیہ یا نہانے کا مخصوص کپڑا لیں۔ اسے اچھی طرح گیلا کرکے اس پر صابن یا باڈی واش لگائیں اور اچھی طرح جھاگ بنا لیں۔

مریض کے جسم پر آہستہ آہستہ پانی ڈال کر جسم کو گیلا کریں۔ صابن لگے کپڑے سے مریض کی گردن سے آغاز کریں۔ کانوں کی بیرونی سطح خصوصاً کانوں کی پچھلی طرف ہلکے ہاتھوں سے کپڑے کی مدد سے صابن لگائیں۔ یاد رکھیں کہ صرف بیرونی کان کی صفائی کرنی ہے کان کے اندر صابن یا روئی سے صاف کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے کان کا انفیکشن ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اسی کپڑے سے چھاتی، پیٹ، بازو اور کمر پر صابن لگائیں اور اچھی طرح ہلکے ہاتھ سے ملیں۔ اس بات کا دھیان رکھیں کہ کپڑے کو زیادہ دباؤ سے نہ رگڑیں ورنہ مریض کی جلد پر زخم ہو سکتے ہیں۔  جلد کی تہوں جیسے بغلوں یا زیر پستان جگہوں کو خاص طور پر صاف کریں۔ اب صاف پانی سے اچھی طرح صابن کو بہا دیں۔

ٹانگیں اور پاؤں دھونا:

ایک نیا تولیہ لیں یا اسی تولیے کو اچھی طرح پانی سے دھو کر اس پر صابن یا باڈی واش دوبارہ لگا کر جھاگ بنائیں۔ دونوں ٹانگیں، گھٹنے، پنڈلیاں اور پاؤں پر کپڑے کی مدد سے صابن لگائیں۔ خصوصا پاؤں کی انگلیوں کے درمیان جگہ کو اچھی طرح صاف کریں۔ دھیان رکھیں کہ اس دوران مریض کی پاؤں کی انگلیوں میں زخم نہ ہوں۔  صاف پانی سے جسم پر لگے صابن کو اچھی طرح دھو دیں۔

نجی اعضاء کو دھونا:

آخر میں ایک الگ تولیہ یا کپڑا لیں اور اس کو پانی سے گیلا کرکے مریض کے نجی اعضاء کو صاف کریں۔ نجی اعضاء کی صفائی کے لیے عام صابن استعمال نہ کریں بلکہ نجی اعضاء کے مخصوص کلینزر یا ہلکا صابن استعمال کریں۔ اگر کلینزر یا  ہلکا صابن استعمال کر رہے ہیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسے اچھی طرح بہا دیا گیا ہے۔ اگر مخصوص صابن یا کلینزر دستیاب نہ ہو تو سادہ پانی سے کپڑا گیلا کرکے دھوئیں۔ یاد رکھیں کہ نجی اعضاء کی صفائی ہمیشہ آگے سے پیچھے کی طرف کریں خصوصاً خواتین میں تاکہ انفیکشن کا خطرہ نہ ہو۔ صفائی خوب اچھے سے کریں تاکہ کوئی گندگی باقی نہ رہے۔

اختتامی مرحلہ:

لیں جی نہانے کا مرحلہ ختم ہوا۔ مریض کو تولیے کی مدد سے خشک کریں، رگڑیں نہیں صرف تھپتھپائیں، خاص طور پر جلد کی تہوں (Folds) کو، تاکہ ریشز یا فنگل انفیکشن نہ بنیں۔ مریض کے جسم کے گرد نہانے والا تولیہ، گاؤن یا کپڑا لپیٹیں اور بہت احتیاط سے مریض کو باتھ روم سے باہر لا کر بیڈ پر بٹھا دیں یا لٹا دیں۔  اگر ضرورت ہے تو ڈرائیر کی مدد سے مریض کے بالوں اور جلد کو خشک کریں۔ ڈاکٹر کی تجویز کردہ کریم ،  لوشن یا موائسچرائزر لگائیں۔ مریض کو آرام دہ کپڑے پہنائیں۔

بستر پر نہلانے کا طریقہ (بیڈ باتھ)


اگر مریض بیماری یا معذوری کی وجہ سے بستر سے اٹھنے کے قابل نہیں ہے، تو اس کی روزمرہ ذاتی صفائی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایسے مریضوں کو بستر کے زخموں سے بچانے کے لیے ان کو نہلانا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے مریض کو نہلاتے وقت پورے جسم کو گیلا کرنے کے بجائے ایک برتن میں ہلکا گرم پانی لیں۔ اس میں نرم کپڑا (Sponging Cloth) بھگو کر نچوڑیں اور جسم کے ایک ایک حصے کو باری باری صاف کریں۔ اس دوران مریض کے جسم کو ڈھانپ کر رکھیں اور صرف وہی حصہ کھولیں جسے صاف کرنا مقصود ہو۔

بستر پر نہلانے کے تفصیلی مراحل اور تکنیک سیکھنے کے لیے ہماری مکمل گائیڈ "بستر پر مریض کو کیسے نہلائیں” کا مطالعہ کریں۔

2۔ دانت صاف کرنا اور اورل کیئر


منہ کی صفائی مریض کی روزمرہ دیکھ بھال کا اہم حصہ ہے اور اس کا براہِ راست تعلق مریض کی خوراک، ہاضمے اور پھیپھڑوں کی صحت سے ہے۔ کمزور مریضوں میں منہ کی گندگی کے جراثیم سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں جا کر نمونیا (Aspiration Pneumonia) جیسی خطرناک بیماری کا باعث بن سکتے ہیں۔ دانتوں کی صفائی کے لیے درج ذیل عملی اقدامات کے ذریعے آپ مریض کی روزمرہ صفائی کو محفوظ طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں:

مریض کی پوزیشن:

اگر مریض اٹھ سکتا ہے تو اسے بٹھا دیں۔ اگر وہ بستر پر ہے تو اس کے سر کے پیچھے تکیے رکھ کر اس کی پشت کو 45 ڈگری یا زائد  تک اوپر اٹھائیں تاکہ پانی گلے میں نہ جائے، یا اسے ایک طرف کروٹ دلا دیں۔ مریض کے سینے پر تولیہ رکھ دیں تاکہ کپڑے گیلے نہ ہوں۔

نرم برش کا استعمال:

ہمیشہ نرم بالوں والا ٹوتھ برش  اور فلورائیڈ والا ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں۔ دانتوں کو اچھی طرح برش کریں۔

کلی کروانا:

برش کے بعد مریض کو کپ میں پانی دیں اور اسے کہیں کہ وہ تیماردار کے ہاتھ میں پکڑے یا پاس پڑے برتن  میں  اچھی طرح کلی کرے۔

اگر مریض تھوک نہ سکے:

ایسے مریض جو ہوش میں نہ ہوں یا پیسٹ تھوکنے سے قاصر ہوں، ان کے لیے ٹوتھ پیسٹ کے بغیر صرف گیلے برش سے دانت صاف کریں، یا مارکیٹ میں ملنے والے خصوصی اورل سوابز (Oral Swabs) یا کسی صاف گیلے ململ کے کپڑے کو انگلی پر لپیٹ کر مسوڑھے، زبان اور دانتوں کو نرمی سے صاف کریں۔ ایسا کرنے سے پہلے مریض کو ایک کروٹ پر اور  45 ڈگری  یا اس سے زائد زاویے پر لٹانا نہ بھولیں۔ مریض کے منہ کے نیچے ایک تولیہ ضرور رکھیں تاکہ اگر رال ٹپکے تو بستر آلودہ نہ ہو۔

مصنوعی دانتوں کی صفائی (Dentures):

اگر مریض کو مصنوعی دانت (Dentures) لگے ہوئے ہیں تو ان کی صفائی روزمرہ کے معمولات میں لازمی شامل ہونی چاہیے۔ مصنوعی دانتوں کو دستانے پہن کر روزانہ منہ سے نکال کر ٹوتھ پیسٹ یا مصنوعی دانتوں کے کلینر اور پانی سے اچھی طرح صاف کریں۔ انہیں رات کو صاف پانی یا ان کے لیے مخصوص محلول یا پھر ماؤتھ واش میں بھگو کر رکھیں تاکہ وہ جراثیم سے پاک رہیں، ان کی شکل خراب نہ ہو،  اور منہ کے اندر زخم نہ بنیں۔

3۔ بالوں کی دیکھ بھال اور کنگھی کرنا


بالوں کی نگہداشت مریض کی روزمرہ ذاتی صفائی (ہائجین) کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگرچہ بالوں کو روزانہ دھونے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن روزانہ یا باقاعدگی سے کنگھی  کرنا ضروری ہے۔ کنگھی کرنے سے بال الجھنے سے محفوظ رہتے ہیں اور بالوں میں موجود قدرتی تیل پورے بالوں میں یکساں طور پر پھیل جاتا ہے، جس سے بال صحت مند رہتے ہیں۔ چوڑے دانتوں والی کنگھی استعمال کریں۔

بالوں میں کنگھی ہمیشہ نرمی سے کریں۔ پہلے بالوں کے سروں (Ends) سے کنگھی شروع کریں اور آہستہ آہستہ جڑوں (Roots) کی طرف بڑھیں۔ اگر بالوں کا کوئی حصہ زیادہ الجھا ہوا ہو تو سر کے قریب بالوں کو ہاتھ سے پکڑ لیں تاکہ بال زیادہ نہ کھنچیں اور مریض کو تکلیف نہ ہو۔ اگر بال بہت زیادہ الجھ گئے ہوں تو تھوڑی مقدار میں پیٹرولیم جیلی لگا کر اس جگہ نرمی سے مالش کریں، اس سے گرہ کھولنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔

اگر مریض خود کنگھی کر سکتا ہے تو  اسے کرنے دیں تاکہ وہ اپنی پسند کے مطابق انہیں ترتیب دے سکے۔آخر میں  استعمال شدہ کنگھی اور دیگر سامان کو جراثیم سے پاک (ڈس انفیکٹ) کریں اور انہیں ان کی مقررہ جگہ پر واپس رکھ دیں۔

4۔ شیو بنانا (Shaving)


مرد مریضوں کے لیے شیو بنانا انہیں ایک بار پھر عام اور صحت مند زندگی کا احساس دلاتا ہے۔ تاہم، کمزور مریض کی شیو بناتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

الیکٹرک شیور کا استعمال:

روایتی بلیڈ یا ریزر کے بجائے الیکٹرک شیور (Electric Shaver) کا استعمال سب سے محفوظ ترین طریقہ ہے۔ یہ کٹ لگنے کے خطرے کو ختم کر دیتا ہے، خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جو خون پتلا کرنے کی ادویات (جیسے ایسپرین یا وارفرین) لے رہے ہیں، کیونکہ ان مریضوں کا خون کٹ لگنے کی صورت میں آسانی سے بند نہیں ہوتا۔

عام ریزر کا طریقہ:

اگر الیکٹرک شیور دستیاب نہ ہو اور آپ عام ریزر استعمال کر رہے ہیں، تو پہلے گرم نچوڑے ہوئے تولیے کو چند منٹ کے لیے مریض کے چہرے پر رکھیں تاکہ بال نرم ہو جائیں۔ اچھی کوالٹی کا شیوونگ جھاگ (Foam) لگائیں اور ایک ہاتھ سے جلد کو ہلکا سا کھینچ کر بالوں کے رخ کے مطابق نرمی سے شیو بنائیں۔

شیو کے بعد کی دیکھ بھال:

شیو مکمل ہونے کے بعد چہرے کو دھو کر صاف کریں اور الکحل سے پاک کوئی اچھا موئسچرائزر یا لوشن لگائیں تاکہ جلد پر خشکی یا خارش نہ ہو۔

 اہم ترین حفاظتی تدابیر (Caregiver Tips)


ایک اچھے تیماردار کے طور پر ان باتوں کا خاص خیال رکھیں:

خودمختاری کی حوصلہ افزائی:

اگر مریض اپنے ہاتھ ہلانے کے قابل ہے، تو اسے اپنا چہرہ خود صاف کرنے دیں یا دانتوں پر خود برش پھیرنے اور خود کنگھی کرنے دیں۔ یہ عمل ان میں معذوری کے احساس کو کم کرتا ہے۔

زبردستی نہ کریں:

اگر مریض چڑچڑا ہو رہا ہے، تھکا ہوا ہے، یا نہانے سے انکار کر رہا ہے، تو اس سے بحث یا زبردستی نہ کریں۔ کچھ دیر کے لیے رک جائیں، اس کا موڈ بہتر ہونے کا انتظار کریں اور پھر پیار سے دوبارہ کوشش کریں۔

حوالہ جات


کلیولینڈ کلینک (Cleveland Clinic): نہانا کیوں ضروری ہے؟

میو کلینک (Mayo Clinic): مریضوں کے لیے اورل کیئر اور دانتوں کی صفائی کے طریقے اور خطرات۔

سکربڈ  (Scribd): مریض کی ذاتی صفائی

نیشنل لائبریری آف میڈیسن (NIH): ذاتی صفائی میں مریض کی مدد کرنا

پیس ہیلتھ (PeaceHealth):  نہانے میں مریض کی مدد کیسے کی جائے؟