تیمارداری کے سفر میں آپ کا ہم قدم

مریض کی محفوظ دیکھ بھال کے لیے گھر کو تیار کرنا


تجدید شدہ:

|


گھر پر مریض کی دیکھ بھال کرنے کے لیے گھر میں آرام دہ جگہ کا ہونا ضروری ہے۔ چاہے آپ کا پیارا سرجری کے بعد صحت یاب ہو رہا ہو، کسی دیرینہ بیماری (Chronic Illness) سے لڑ رہا ہو، یا ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر گھر آیا ہو، گھر کی صحیح تیاری مریض کے سکون اور جلد صحت یابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس گائیڈ میں ہم مرحلہ وار سیکھیں گے کہ گھر میں مریض کی محفوظ، صاف ستھری اور پرسکون دیکھ بھال (Home Care) کے لیے گھر کو کس طرح تیار کیا جائے۔

1۔ مریض کی ضروریات کا جائزہ لیں


گھر میں کوئی بھی تبدیلی کرنے سے پہلے مریض کی مخصوص جسمانی اور ذہنی ضروریات کو سمجھنا ضروری ہے۔ کچھ مریضوں کے لیے گھر میں بڑی  تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کچھ کے لیے معمولی ردوبدل بھی کافی ہوتا ہے۔ گھر میں مریض کی محفوظ دیکھ بھال کا انحصار  مکمل طور پر مریض کی ضروریات کی بنیاد پر ہوتا ہے جیسا کہ:

  • حرکت پذیری کے مسائل (Mobility challenges): مریض کے لیے سیڑھیاں چڑھنا، وہیل چیئر پر منتقل ہونا یا چلنا پھرنا مشکل ہو۔
  • طبی سامان کی ضرورت (Equipment needs): مریض کو وہیل چیئر، آکسیجن سیلنڈر، یا ہسپتال کے بستر (Hospital bed) کی ضرورت ہو۔
  • خوراک اور صفائی کی ضرورت: مریض پر غذائی پابندیاں ہوں یا صفائی کےکسی مخصوص اہتمام کی ضرورت ہو۔

2۔ درست کمرے کا انتخاب


کمرے کا انتخاب مریض کی محفوظ دیکھ بھال  کے لیے گھر کو تیار کرنے کا اہم مرحلہ ہے۔ مریض کے لیے ایک پرسکون، محفوظ اور آسان رسائی والا کمرہ منتخب کریں. ایسا کمرہ جو مریض کی ضروریات پوری کرتا ہو اور جہاں مریض تک پہنچنا آسان ہو۔ درج ذیل نکات آپ کے لیے کمرے کا انتخاب کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں:

  • مقام: اگر ممکن ہو تو سیڑھیوں سے بچنے کے لیے کمرہ لازمی طور پر گراؤنڈ فلور پر ہواور اٹیچ باتھ روم یا واش روم کے قریب ہو۔ اگر مریض ہل جل نہیں سکتا تو مریضوں کے لیے مخصوص کموڈ (Portable Commode) بہترین انتخاب ہے۔
  • سکون و آرام: کمرے میں ہوا کا گزر (Ventilation) اچھا ہو تاکہ بو پیدا نہ ہو۔ قدرتی روشنی موڈ کو خوشگوار بناتی ہے، جبکہ رات کے پرسکون آرام کے لیے گہرے رنگ کے پردے (Blackout curtains) لگائیں۔ کمرے کا درجہ حرارت مریض کی ضرورت کے مطابق رکھیں۔
  • پردہ اور رازداری (Privacy): کمرہ گھر کی زیادہ چہل پہل والی جگہ سے دور ہو تاکہ بچوں کے شور، مہمانوں اور پالتو جانوروں کی وجہ سے مریض کا آرام متاثر نہ ہو۔
  • ہنگامی رسائی: کمرے کا دروازہ اتنا چوڑا ہو کہ وہیل چیئر آسانی سے گزر سکے اور ہنگامی صورتحال میں کیئر گیور فوراً پہنچ سکے۔

3۔ حفاظت اور آسان رسائی


گھر پر مریض کی دیکھ بھال کے دوران مریض کی حفاظت سب سے اہم عنصر ہوتا ہے۔ گرنا یا پھسلنا  بزرگ اور کمزور مریضوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوا کرتا ہے۔ مریض کی محفوظ نگہداشت  کے لیے گھر کوتیار کرنے اور  ماحول کو محفوظ بنا نے کے لیے درج ذیل اقدامات پر عمل کر کے آپ اس طرح کے حادثات سے بچ سکتے ہیں:

  • راستے صاف رکھیں: لابیوں اور دروازوں کے راستے سے فالتو قالین، بجلی کی تاریں اور بکھرا ہوا سامان ہٹا دیں تاکہ وہیل چیئر یا واکر (Walker) نہ اٹکے۔
  • بہترین روشنی (Proper lighting): مریض کے کمرے، راہداریوں اور باتھ روم میں ہر وقت اچھی روشنی ہونی چاہیے۔ بستر کے پاس نائٹ لیمپ یا سوئچ بورڈ  مریض کی پہنچ میں ہوں۔
  • فرش کی حفاظت: گیلے حصوں، خصوصاً شاور کے نیچے پھسلنے سے محفوظ میٹس (Non-slip mats) استعمال کریں۔ پھسلن والے فرش پر ایسے قالین رکھیں جن کی پشت پر  ربر لگی ہو تاکہ وہ پھسلیں نہیں۔
  • ہنگامی گھنٹی: بستر کے پاس ایک کال بٹن یا گھنٹی (Call Bell) رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر مریض کیئر گیور کو فوراً بلا سکے۔ لائٹ جانے کی صورت کے لیے ٹارچ پاس رکھیں۔

4۔ فرنیچر اور طبی آلات کی ترتیب


گھرپر مریض کی محفوظ دیکھ بھال کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہی کہ گھر میں کیسے فرنیچر کا انتخاب کیا گیا ہے اور اسے کس ترتیب سے رکھا گیا ہے۔ فرنیچر کی درست ترتیب نگہداشت کو آسان اور گرنے کے خطرات کو کم کرتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن پر عمل کرکے ہم گھر میں مریض کو پرسکون ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔

  • بستر کی سیٹنگ (Bed setup): بستر کی اونچائی ایسی ہو کہ مریض آسانی سے اتر اور چڑھ سکے۔ بیڈ پر گدے کا انتخاب مریض کی مخصوص ضروریات اور ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔ ٹیک لگانے اور آرام دہ پوزیشن کے لیے اضافی تکیے یا ویج کشن (Wedge cushions) استعمال کریں۔ طبی آلات اور فون چارجر کے سوئچ بستر کے پاس ہوں۔
  • کرسی کا بندوبست: مریض کے بیٹھنے کے لیے ایک مضبوط اور آرام دہ ہینڈل والی کرسی رکھیں تاکہ اٹھتے بیٹھتے انہیں سہارا ملے۔ بہت زیادہ نرم گدے والی کرسی سے پرہیز کریں کیونکہ وہ مناسب سپورٹ نہیں دیتی۔
  • حرکت کے لیے معاون  آلات: وہیل چیئر، لاٹھی یا واکر کو ہمیشہ بستر کے بالکل قریب رکھیں اور انہیں مریض کے قد کے مطابق ایڈجسٹ کریں۔
  • سائیڈ ٹیبل: ادویات، پانی، کتابیں اور ذاتی سامان رکھنے کے لیے بستر کے پاس ایک مضبوط سائیڈ ٹیبل یا ٹرے رکھیں۔ فرنیچر ایسا نہ ہو جو ہلتا یا ڈگمگاتا ہو۔

5۔ ضروری سامان پہنچ میں رکھیں


بزرگ اور سرجری کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کو اپنی روزمرہ کی چیزوں کے لیے زیادہ جھکنا، کھینچنا یا چلنا نہیں چاہیے:

  • ادویات کا اسٹیشن: بستر کے پاس میز پر روزانہ کی دوائیوں کی مخصوص ڈبیا (Pill organizer) میں دوائیں اور پانی کا گلاس رکھیں۔ خوراک کا ریکارڈ رکھنے کے لیے نوٹ پیڈ استعمال کریں۔ (مزید تفصیلات کے لیے ہماری گائیڈ  ادویات کا صحیح استعمال اور انتظام: تیمارداروں کے لیے ایک گائیڈ دیکھیں)۔
  • پانی اور اسنیکس: بستر کے پاس پانی کی بوتل اور ہلکی پھلکی صحت بخش غذائیں جیسے بسکٹ، دہی یا پھل رکھیں۔ خراب ہونے والی خوراک پاس نہ رکھیں۔
  • رابطے کے آلات: موبائل فون،  چارجر اور رابطے کی گھنٹی پاس رکھیں تاکہ مریض ان تک پہنچتے ہوئے گر نہ جائے۔ اگر گھر بڑا ہے تو کیئر گیور سے فوری رابطے کے لیے واکی ٹاکی (Walkie-talkie) کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • ذاتی دیکھ بھال (Personal Care): ٹشو پیپر، گیلے وائپس (Wet wipes) اور ہینڈ سینیٹائزر پاس رکھیں۔ مریض کی عینک، مصنوعی دانت (Dentures) یا سماعت کا آلہ (Hearing aid) میز پر محفوظ لیکن قریبی جگہ پر ہوں۔
  • سکون کا سامان: کمبل یا چادر بیڈ پر ہی پاؤں کی جانب اس طرح فولڈ کر کے رکھیں کہ مریض باآسانی اسے کھول کر اپنے اوپر ڈال سکے۔  گرم جرابیں اور ٹی وی کا ریموٹ سائیڈ ٹیبل پر رکھیں۔ تفریح کے لیے کتابیں یا رسالے فراہم کریں۔

6۔ باتھ روم کی تیاری


گھر میں مریض کی دیکھ بھال کا سب سے اہم اور نازک مرحلہ مریض کی باتھ روم کی ضروریات پورا کرنا ہوتا ہے۔ باتھ روم گھریلو نگہداشت میں سب سے حساس جگہ ہے، کیونکہ مریضوں کے ساتھ پیش آنے والے  زیادہ تر حادثات اسی جگہ ہوتے ہیں۔ لہذا  مریض کی محفوظ دیکھ بھال کے لیے گھر کو تیار کرتے وقت باتھ روم کی تیاری درج ذیل طریقوں سے کریں:

شاور کی حفاظت:

بیٹھ کر نہانے کے لیے شاور چیئر (Shower Chair) یا بنچ کا استعمال کریں اور ہاتھ سے پکڑنے والا شاور (Handheld shower) استعمال کریں۔ صابن اور شیمپو قریب ہی رکھیں۔

کموڈ سیٹ:

اگر مریض کو بیٹھنے میں گھٹنوں یا کولہے کا درد ہو تو انگلش کموڈ یا  اونچی ٹوائلٹ سیٹ (Raised toilet seat) کا استعمال کریں اور ساتھ میں سیفٹی فریم لگائیں۔

ہینڈل اور ریلنگ (Grab bars):

ٹوائلٹ سیٹ اور شاور کے پاس مضبوطی سے اور  مستقل طور پر سٹیل کے  ہینڈلز (Grab bars) لگائیں۔ سکشن کپ والے عارضی ہینڈلز سے پرہیز کریں کیونکہ وہ وزن پڑنے پر نکل سکتے ہیں۔

صفائی کا سامان:

باتھ روم میں اینٹی بیکٹیریل صابن اور صاف تولیے رکھیں۔ گندے کپڑوں کے لیے وہیں ایک ٹوکری رکھیں اور کیئر گیورز صفائی کے دوران ڈسپوزایبل دستانے (Disposable gloves) استعمال کریں۔

مرٰیض کی محفوظ دیکھ بھال اور انہیں گرنے سے بچانے کے لیے باتھ روم میں نہ پھسلنے والے میٹ رکھیں۔
باتھ روم اور راہداریوں میں ہینڈل اور ریلنگ (Grab Bars) لگائی گئی ہیں تاکہ مریض کو محفوظ دیکھ بھال کو یقینی بنایا جا سکے۔

7۔ میڈیکل سپلائیز کو منظم کریں


تمام طبی سامان کو صاف، خشک جگہ پر ڈبوں میں ترتیب سے رکھیں اور ان پر لیبل لگائیں:

  • ضروری سامان: جراثیم سے پاک پٹیاں (Gauze)، بینڈیج، ٹیپ، اور زخم صاف کرنے والا اینٹی سیپٹک لوشن۔ دستانے اور سینیٹائزر۔
  • نگرانی کے آلات: تھرمامیٹر، بلڈ پریشر (BP) مانیٹر، اور شوگر چیک کرنے والی مشین (Glucose monitor)۔
  • بستر کے زخموں سے بچاؤ: اگر مریض طویل عرصے بستر پر ہے، تو بستر کے زخموں سے  بچاؤ والا ہوا کا گدا (Anti-bedsores mattress) یا کشن استعمال کریں۔

8۔ صفائی اور انفیکشن کنٹرول


مریض کی گھر پر دیکھ بھال کے دوران مریض اور اہل خانہ کو  انفیکشن سے بچانا ایک چیلنج ہوتا ہے۔  گھر کے ماحول کو صاف اور جراثیم سے پاک رکھنا مریض کو سیکنڈری انفیکشن سے بچاتا ہے:

  • زیادہ چھوئی جانے والی جگہوں جیسے دروازے کے ہینڈل، بستر کی ریلنگ اور لائٹ کے سوئچز کی باقاعدگی سے جراثیم کشی (Disinfect) کریں۔
  • بستر کی چادریں اور تولیے باقاعدگی سے دھوئیں۔ زخم کی صفائی کے لیے ہمیشہ طبی ہدایات پر عمل کریں۔

مریض کے لیے صفائی کا معیار کیسے قائم رکھا جائے اور انفیکشن کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟ اس بارے میں ہماری گائیڈ  گھر پر صفائی اور جراثیم کشی میں تمام تفصیلات موجود ہیں، آپ ضرور اس کا مطالعہ کریں۔

9۔ ذہنی اور جذباتی صحت پر توجہ


گھر میں بستر پر پڑا مریض نہ صرف بیماری سے لڑ رہا ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی زندگی کے سفر میں آنے والی مختصر یا طویل مدتی  رکاوٹ کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہوتا ہے۔ یہ ذہنی دباؤ مریض کے اندر چڑچڑا پن اور بیزاری کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ ایسے میں مریض کو صرف جسمانی آرام ہی نہیں، جذباتی سہارے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:

  • کمرے میں خاندانی تصاویر یا چھوٹے پودے رکھیں تاکہ ماحول خوشگوار لگے۔
  • اگر ممکن ہو تو کمرے میں ٹی وی  لگائیں۔ مریض کی پسند کا ہلکا میوزک چلائیں۔
  • مریض اگر مذہبی رجحان رکھتا ہے تو جو عبادات اس کے لیےممکن ہوں ان کی ادائیگی کے لیے آسانی فراہم کریں۔
  • مریض کے ساتھ وقت گزاریں تاکہ وہ اکیلا پن یا مایوسی محسوس نہ کریں۔

10۔ ہنگامی پلان اور کیئر شیڈول


  • ایمرجنسی نمبرز: ڈاکٹر، ایمبولینس اور قریبی ہسپتال کا نمبر واضح جگہ پر لکھ کر لگائیں۔ مریض کے میڈیکل ریکارڈ کی فائل اور فرسٹ ایڈ کٹ ہمیشہ تیار رکھیں۔
  • روزمرہ کا شیڈول (Care Schedule): دواؤں کا وقت، کھانا، فزیو تھراپی اور ڈاکٹر کی اپوائنٹمنٹ کو ایک وائٹ بورڈ یا موبائل ایپ پر شیڈول کریں تاکہ تسلسل برقرار رہے۔

11۔ تیماردار کی اپنی صحت


کسی بیمار یا اپنے پیارے کی دیکھ بھال کرنا بلاشبہ ایک عظیم اور مقدس فریضہ ہے، لیکن اس سفر میں تیماردار (Caregiver) کی اپنی صحت اور آرام بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اکثر دوسروں کا خیال رکھتے رکھتے ہم خود کو بھول جاتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ "آپ کسی خالی برتن سے کسی کی پیاس نہیں بجھا سکتے۔” اگر آپ خود جسمانی اور ذہنی طور پر تھکے ہوئے ہوں گے، تو چاہ کر بھی اپنوں کی بہترین دیکھ بھال نہیں کر پائیں گے۔ اس لیے اپنے لیے وقت نکالنا، مناسب نیند لینا اور اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا کوئی خود غرضی نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ یاد رکھیے، آپ کی اپنی صحت اچھی ہوگی تو ہی آپ اپنے پیاروں کے لیے ایک مضبوط اور توانا سہارا بنے رہ سکیں گے۔ پہلے اپنا خیال رکھیے، تاکہ آپ دوسروں کا بہتر خیال رکھ سکیں!

حاصلِ کلام


پہلی نظر میں گھر کو مریض کے لیے تیار کرنا ایک مشکل کام لگ سکتا ہے، لیکن ایک منظم اور باقاعدہ منصوبہ بندی اس عمل کو بہت آسان بنا دیتی ہے۔ ایک محفوظ، صاف ستھرا اور ترتیب وار ماحول نہ صرف مریض کو جلدی شفا دیتا ہے بلکہ دیکھ بھال کرنے والے کو بھی ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں سے آغاز کریں اور اپنے گھر کو شفاء کا گہوارہ بنائیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)


گھر پر مریض کا کمرہ کیسے سیٹ کریں؟

ایک پرسکون، روشن اور واش روم کے قریب کمرہ منتخب کریں۔ اس میں ایک آرام دہ بستر، وہیل چیئر گھمانے کی جگہ اور تمام ضروری سامان بستر کے پاس ترتیب سے رکھیں۔

 ہوم کیئر کے لیے سب سے ضروری حفاظتی آلات کون سے ہیں؟

باتھ روم کے ہینڈلز (Grab bars)، اینٹی سلپ میٹس، فرسٹ ایڈ کٹ، راستوں میں بہترین روشنی اور طبی سامان کی درست ترتیب ہوم کیئر کے لیے لازمی ہیں۔

 دیکھ بھال کے دوران مریض کو انفیکشن سے کیسے بچایا جائے؟

ہاتھوں کی صفائی برقرار رکھیں، کثرت سے چھوئی جانے والی جگہوں کو ڈس انفیکٹ کریں، دستانے استعمال کریں اور بستر کی چادریں باقاعدگی سے دھوئیں۔

 کیا بستر پر لیٹے (Bedridden) مریض کی گھر پر دیکھ بھال ممکن ہے؟

جی ہاں، بالکل ممکن ہے۔ اس کے لیے ہسپتال کا بستر استعمال کریں، ہر دو گھنٹے بعد مریض کی پوزیشن بدلیں تاکہ بستر کے زخم نہ ہوں، جلد کو خشک رکھیں اور اچھی غذا اور صفائی کا خیال رکھیں۔

 ایک کیئر گیور کے طور پر میں خود کو کیسے منظم رکھ سکتا ہوں؟

دواؤں، کھانے اور ڈاکٹر کے دوروں کا ریکارڈ رکھنے کے لیے روزمرہ کا کیئر چارٹ یا موبائل ایپ استعمال کریں اور وقت پر کام مکمل کرنے کے لیے ریمائنڈرز لگائیں۔