سرجری یا آپریشن کا مرحلہ جتنا بھی بڑا یا چھوٹا ہو، ہسپتال سے گھر منتقلی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ اکثر اوقات ڈاکٹرز ڈسچارج کے وقت کہہ دیتے ہیں کہ "اب مریض کو آہستہ آہستہ چلانا شروع کریں،” لیکن عموماً یہ تفصیل نہیں بتائی جاتی کہ آپریشن کے بعد مریض کو چلانا کیسے ہے۔ اس لیے ایک عام تیماردار کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ سرجری کے بعد مریض کی نقل و حرکت کیسے کریں؟ یا انہیں گرنے یا چوٹ لگنے سے کیسے بچائیں۔
آپریشن کے بعد مریض کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور ان کی نقل و حرکت (Mobility) کو بحال کرنے میں ایک تیماردار کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ گائیڈ خالصتاً تیماردار اور مریض کی سہولت کے لیے تیار کی گئی ہے۔
ضروری نوٹ (Disclaimer): یہ معلومات صرف عام آگاہی اور تیمارداروں کی رہنمائی کے لیے ہیں۔ سرجری کے بعد کسی بھی قسم کی نقل و حرکت، ورزش یا واک شروع کروانے سے پہلے اپنے سرجن، ڈاکٹر یا فزیو تھراپسٹ سے مشاورت اور ان کی اجازت لازمی ہے۔
1۔ آپریشن کے بعد نقل و حرکت (Mobility) کیوں ضروری ہے؟
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ آپریشن کے بعد مریض کو مسلسل بستر پر آرام کرنا چاہیے، جبکہ جدید طبی سائنس اس کے برعکس کہتی ہے۔ ڈاکٹرز کی اجازت کے بعد جلد از جلد ہلکی پھلکی حرکت شروع کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ضروری ہے:
خون کی گردش کا بہتر ہونا: مسلسل لیٹے رہنے سے ٹانگوں میں خون کے لوتھڑے (Blood Clots یا DVT) بننے کا خطرہ ہوتا ہے۔ حرکت کرنے سے یہ خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ خون کی گردش بہتر ہونے سے ادویات کے اثرات بہتر ہوتے ہیں۔
پھیپھڑوں کی صحت: تھوڑا بہت بیٹھنے یا چلنے سے پھیپھڑوں کو طاقت ملتی ہے اور سرجری کے بعد نمونیا کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔
ہاضمے کی بحالی: سرجری کے بعد قبض ایک عام مسئلہ ہے، ہلکی واک آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتی ہے۔
2۔ سرجری کے بعد نقل و حرکت کی ممکنہ مشکلات
مریض کو چلانے سے پہلے تیماردار کو ان چیلنجز کا علم ہونا چاہیے جن کا مریض کو سامنا ہوتا ہے:
درد کا خوف: مریض کو لگتا ہے کہ ہلنے جلنے سے ان کے ٹانکے کھل جائیں گے یا درد بڑھ جائے گا۔
شدید کمزوری اور چکر آنا: اینستھیزیا (بے ہوشی کی دوا) کے اثرات اور خون کی کمی کی وجہ سے بستر سے اٹھتے ہی چکر آ سکتے ہیں۔ لہذا مریض کو پہلے بستر کے کنارے پر ٹانگیں لٹکا کر چند منٹ بٹھائیں (اس دوران چکر آنے کا معائنہ کریں)۔ اس کے بعد واکر کی مدد سے یا خود سہارا دے کر مریض کوچند لمحے بستر کے پاس کھڑا رکھیں اور پھر چلنے کا کہیں۔
توازن کی کمی: خاص طور پر بڑی سرجریوں کے بعد جسم اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پاتا۔اگر مریض کو نچلے دھڑ کے لیے لوکل انستھیزیا دیا گیا ہے تو بھی پہلی بار چلتے ہوئے وہ لڑکھڑا سکتا ہے۔ کمرے کے اندر چند قدم چلائیں اور پھر رفتہ رفتہ ڈاکٹر نے جتنی اجازت دی ہے اس کے مطابق دوری بڑھاتے جائیں۔
3۔ گھر کے ماحول کو محفوظ بنانا
مریض کو بستر سے اٹھانے سے پہلے آپ کو گھر کے ماحول کو "فال پروف” (Fall-proof) یعنی گرنے کے خطرات سے پاک کرنا ہوگا۔
فرش کی صفائی: کمرے اور راہداری سے ایسے چھوٹے قالین، چٹائیاں یا پائیدان ہٹا دیں جن سے مریض کا پاؤں الجھ سکتا ہو۔
تاروں کو سمیٹیں: چارجر کی تاریں یا ایکسٹینشن بورڈز راستے سے ہٹا دیں۔
باتھ روم کی حفاظت: باتھ روم کے فرش پر اینٹی سلپ میٹ (Anti-slip mats) بچھائیں اور اگر ممکن ہو تو کموڈ کے پاس پکڑنے والے ہینڈل (Grab bars) لگوائیں۔
مناسب روشنی: رات کے وقت مریض کے کمرے اور باتھ روم کے راستے میں زیرو کا بلب یا نائٹ لائٹ لازمی آن رکھیں تاکہ اندھیرے میں توازن نہ بگڑے۔
گھر کے ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے ہماری گائیڈ مریض کی محفوظ دیکھ بھال کے لیے گھر کو تیار کرنا ضرور پڑھیں۔
4۔ آپریشن کی نوعیت کے مطابق نقل و حرکت کے عملی طریقے
ہر آپریشن کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے مختلف سرجریز کے بعد نقل و حرکت بحال کرنے کے طریقے بھی الگ ہوتے ہیں۔ مریض کی عمر، سرجری کی نوعیت اور مجموعی صحت جیسے عوامل اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ کوئی انسان کتنی جلدی اور محفوظ طریقے سے دوبارہ چلنا پھرنا شروع کر سکتا ہے۔ اس سفر میں تسلسل، صبر اور نرمی سے حوصلہ افزائی کرنا ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ ذیل میں مختلف نوعیت کی سرجریز کے بعد مریض کی نقل و حرکت بحال کرنے کے کچھ عملی اقدامات بیان کیے گئے ہیں:
الف: آرتھوپیڈک سرجریز (ہڈیوں اور جوڑوں کا آپریشن – گھٹنا یا کولہا تبدیل ہونا)
- اٹھنے کا درست طریقہ (مریض کے لیے): مریض کو کہیں کہ وہ اپنے آپ کو بستر کے کنارے تک سرکائے۔ اپنے صحت مند پیر کو زمین پر رکھے اور جس پیر کا آپریشن ہوا ہے اسے سیدھا رکھے، موڑے نہیں۔ اٹھتے وقت بستر یا اونچی کرسی کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر پورا وزن صحت مند ٹانگ پر ڈالتے ہوئے کھڑا ہو۔
- تیماردار کیسے مدد کرے؟ تیماردار کبھی بھی مریض کو بازوؤں سے پکڑ کر اوپر کی طرف نہ کھینچے۔ آپ کو مریض کے آگے یا متاثرہ سمت کھڑے ہونا چاہیے۔ اپنے ہاتھ مریض کی کمر کے پیچھے (یا اگر انہوں نے سپورٹ بیلٹ پہنی ہے تو وہاں) رکھیں اور انہیں اوپر اٹھنے میں توازن فراہم کریں۔ یاد رکھیں، آپ نے صرف توازن دینا ہے، مریض کو گود میں اٹھانے کی کوشش نہیں کرنی تاکہ آپ کی اپنی کمر پر دباؤ نہ آئے۔
- وزن ڈالنے کی حد: ڈاکٹر سے لازمی پوچھیں کہ مریض ٹانگ پر کتنا وزن ڈال سکتا ہے (Weight-bearing status)۔
- معاون آلات کا استعمال: واکر یا بیساکھی کو ہمیشہ مریض کے قریب رکھیں اور یہ یقینی بنائیں کہ وہ اسے درست طریقے سے پکڑ رہے ہیں۔
- اونچی بیٹھک: گھٹنے یا ہپ ریپلیسمنٹ کے مریضوں کے لیے اونچی کرسی اور اونچے کموڈ کا انتظام کریں تاکہ جوڑوں پر زیادہ دباؤ نہ پڑے۔
ب: دماغی اور اعصابی سرجریز (Brain & Neurological Surgeries)
- اٹھنے کا درست طریقہ (مریض کے لیے): اعصابی کمزوری کی وجہ سے مریض اچانک سیدھا نہیں اٹھ سکتا۔ انہیں پہلے آہستہ سے کروٹ لینی چاہیے، پھر کہنی کا سہارا لے کر بیٹھنا چاہیے۔ بستر سے پیر نیچے لٹکانے کے بعد کم از کم 2 سے 3 منٹ تک بیٹھے رہنا ضروری ہے تاکہ چکر آنا بند ہوں۔
- تیماردار کیسے مدد کرے؟ تیماردار کو مریض کے بالکل سامنے کھڑا ہونا چاہیے اور اپنے دونوں ہاتھ مریض کے کندھوں یا کمر پر رکھنے چاہئیں۔ اٹھتے وقت مریض کا رخ آپ کی طرف ہونا چاہیے تاکہ اگر انہیں چکر آئے یا توازن بگڑے، تو وہ سیدھے آپ کی گود یا ہاتھوں میں آئیں اور گرنے سے بچ جائیں۔ مریض کو تب تک چلنے نہ دیں جب تک وہ بیٹھ کر بالکل نارمل نہ محسوس کریں۔
- توازن اور سمت کا مسئلہ: ایسے مریضوں کو اکثر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کس طرف جا رہے ہیں یا ان کا توازن اچانک بگڑ سکتا ہے۔
- صبر و تحمل: اعصابی سرجری کے بعد ریکوری سست ہوتی ہے، اس لیے مریض کو جلد بازی کا طعنہ نہ دیں۔
ج: دل کے آپریشن (Cardiac Surgeries / Bypass)
- اٹھنے کا درست طریقہ (مریض کے لیے): سب سے اہم اصول: کومبٹ پوزیشن(Combat Position یا Log Roll) ہے۔ مریض کو چاہیے کہ وہ بستر پر سیدھے اٹھنے کی بالکل کوشش نہ کرے، کیونکہ اس سے سینے کی ہڈی (Sternum) کھل سکتی ہے۔ مریض پہلے پورے جسم کو ایک لکڑی کے تختے کی طرح (بغیر مڑے) کروٹ دلائے۔ پھر اوپر والے ہاتھ کا سہارا بستر پر رکھ کر، اور ٹانگیں نیچے لٹکا کر آہستہ سے بیٹھے۔ اٹھتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر کراس (Cross) کر کے رکھیں یا تکیہ دبا کر رکھیں۔
- تیماردار کیسے مدد کرے Executive Support: تیماردار کو کبھی بھی مریض کا ہاتھ پکڑ کر آگے نہیں کھینچنا چاہیے اور نہ ہی مریض کو اپنے گلے میں ہاتھ ڈالنے دینا چاہیے۔ تیماردار اپنا ایک ہاتھ مریض کی پیٹھ (کمر کے پیچھے) اور دوسرا ہاتھ مریض کے گھٹنوں کے نیچے رکھے اور کروٹ لینے کے بعد انہیں آہستہ سے اوپر کی طرف پش (Push) کرے، تاکہ مریض کے اپنے سینے پر بالکل زور نہ پڑے۔
- تکیے کا استعمال: اٹھتے وقت مریض کو سینے پر ایک تکیہ مضبوطی سے پکڑنے کا کہیں تاکہ ٹانکوں پر دباؤ نہ آئے۔
- ہلکی واک: ہارٹ سرجری کے بعد کمرے کے اندر ہی چند قدم کی واک سے شروعات کریں۔
د: پیٹ کے آپریشن (Abdominal Surgeries)
- اٹھنے کا درست طریقہ (مریض کے لیے): دل کے آپریشن کی طرح پیٹ کے آپریشن میں بھی سیدھے اٹھنا ٹانکوں کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ مریض کو پہلے کروٹ لینی چاہیے۔ اٹھتے وقت پیٹ پر ایک چھوٹا سخت تکیہ (Abdominal Pillow) دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے دبا کر رکھنا چاہیے تاکہ پیٹ کے مسلز پر دباؤ نہ آئے۔ کہنی اور صحت مند ہاتھ کا سہارا لے کر بستر سے اٹھنا چاہیے۔
- تیماردار کیسے مدد کرے؟ تیماردار مریض کے بستر کی اس سمت کھڑا ہو جس طرف مریض نے کروٹ لی ہے۔ مریض کی پیٹھ کے پیچھے ہاتھ رکھ کر انہیں بیٹھنے میں مدد دیں اور یہ یقینی بنائیں کہ مریض کا تکیہ پیٹ پر مضبوطی سے بندھا یا پکڑا ہوا ہو۔ جب مریض کھڑا ہو تو تیماردار ان کی بغل کے نیچے ہاتھ دے کر (نہ کہ پیٹ یا کمر سے پکڑ کر) انہیں اوپر کی طرف اٹھنے میں سہارا دے۔
- ٹانکوں کا دباؤ: کھانستے، چھینکتے یا بستر سے اٹھتے وقت پیٹ پر ہلکا سا تکیہ رکھنے سے درد اور ٹانکوں پر کھینچاؤ کم ہوتا ہے۔
- سیدھے کھڑے ہونا: پیٹ کے آپریشن کے بعد مریض جھک کر چلنے کی کوشش کرتا ہے، انہیں پیار سے سیدھا ہو کر چلنے کی ترغیب دیں (اگر ڈاکٹر نے منع نہ کیا ہو)۔
ر: گائناکولوجیکل سرجریز – جیسے ہسٹریکٹومی یا سیزیرین (Gynecological Surgeries / C-Section)
- جھکنے اور وزن اٹھانے پر پابندی: تیماردار کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مریضہ آپریشن کے بعد ابتدائی ہفتوں میں زمین سے کوئی وزنی چیز نہ اٹھائیں اور نہ ہی جھک کر کام کریں۔ کچن یا گھر کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹائیں۔
- بستر سے اٹھنے کا محفوظ طریقہ: سیدھے اٹھنے کے بجائے پہلے کروٹ لیں، پھر ٹانگیں بستر سے نیچے لٹکائیں اور ہاتھوں کا سہارا لے کر آرام سے بیٹھیں تاکہ پیٹ کے نچلے حصے کے ٹانکوں پر دباؤ نہ پڑے۔
- ہلکی چہل قدمی: سیزیرین یا ہسٹریکٹومی کے بعد گیس کا درد ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کی اجازت سے کمرے میں ہلکی واک کروانا اس درد کو کم کرنے میں بہت مددگار ہوتا ہے۔
س: کینسر کی سرجریز – جیسے چھاتی کا آپریشن یا ٹیومر کا خاتمہ (Cancer Surgeries)
- مخصوص حصے کی حفاظت: اگر چھاتی یا بازو کے پاس کی سرجری (Mastectomy) ہوئی ہے، تو اس بازو سے مریض کو سہارا دے کر اٹھانے سے گریز کریں۔ ہمیشہ دوسری (صحت مند) سمت سے سہارا دیں۔
- ڈرین بیگز (Drain Bags) کا خیال: کینسر سرجری کے بعد اکثر مریض کے جسم کے ساتھ خون یا پانی نکالنے والی تھیلیاں (Drains) لگی ہوتی ہیں۔ چلتے پھرتے وقت تیماردار ان بیگز کو محفوظ طریقے سے مریض کے کپڑوں کے ساتھ پن کر دیں یا ہاتھ میں سنبھالیں تاکہ چلنے کے دوران ان میں کھینچاؤ نہ آئے۔
- شدید کمزوری کا خیال: کینسر کے مریضوں میں سرجری کے ساتھ ساتھ کیموتھراپی یا بیماری کی وجہ سے طاقت بہت کم ہوتی ہے۔ ان کے لیے بہت چھوٹے اہداف رکھیں، جیسے بستر سے صرف کرسی تک آنا، اور انہیں آرام کے لیے پورا وقت دیں۔
5۔ حوصلہ افزائی اور جذباتی سہارا
جسمانی علاج سے زیادہ مریض کو ذہنی سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ سرجری کے بعد مریض اکثر چڑچڑے ہو جاتے ہیں یا مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
- چھوٹی کامیابیوں کا جشن: اگر مریض بستر سے اٹھ کر خود باتھ روم تک گیا ہے، تو اس کی تعریف کریں اور حوصلہ بڑھائیں۔
- مثبت گفتگو: انہیں یاد دلائیں کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہے ہیں۔
- زبردستی سے گریز: اگر مریض کسی وقت بہت زیادہ تھکا ہوا محسوس کرے تو زبردستی نہ چلائیں، بلکہ انہیں آرام کرنے دیں۔
6۔ خطرے کی علامات: ڈاکٹر سے کب رابطہ کریں؟
اگر درج ذیل میں سے کوئی بھی علامات ظاہر ہوں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں:
- ٹانکوں والی جگہ سے اچانک خون، پانی یا پیپ کا نکلنا۔
- ٹانگوں میں شدید درد، سوجن، یا کسی ایک حصے کا گرم اور سرخ ہو جانا۔
- چلنے کے دوران اچانک شدید چکر آنا، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانا یا بے ہوش ہونا۔
- سانس لینے میں تکلیف ہونا یا چھاتی میں درد اٹھنا۔
حاصلِ کلام (Conclusion)
آپریشن کے بعد مریض کو دوبارہ فعال بنانا ایک صبر طلب کام ہے، لیکن ایک بااعتماد تیماردار اس سفر کو بہت آسان اور محفوظ بنا سکتا ہے۔ آپ کا مقصد مریض کو معذور محسوس کروانا نہیں بلکہ انہیں آہستہ آہستہ خود مختاری کی طرف لانا ہے۔ ڈاکٹر کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کریں، گھر کو محفوظ بنائیں اور محبت و صبر کے ساتھ اپنے مریض کا ہاتھ تھام کر انہیں دوبارہ پیروں پر کھڑا کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
اس کا انحصار سرجری کی نوعیت اور مریض کی مجموعی صحت پر ہوتا ہے۔ زیادہ تر مریض چند ہی دنوں میں ہلکی حرکت شروع کر دیتے ہیں، لیکن مکمل بحالی میں ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔
بستر سے کرسی پر منتقل ہونے میں محفوظ مدد فراہم کریں، ڈاکٹر کی منظور شدہ ورزشوں کی حوصلہ افزائی کریں، اور گھر کو گرنے کے خطرات سے بالکل پاک بنائیں۔
جی نہیں ہڈیوں (Orthopedic)، دل (Cardiac)، پیٹ (Abdominal)، اور اعصاب (Neurological) کی سرجریز کے بعد صحت یابی کی رفتار اور جسمانی سرگرمی کا معیار ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔
مثبت باتوں سے ان کا حوصلہ بڑھائیں، ان کی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کا ریکارڈ رکھیں، اور ان کی مسلسل کوششوں کی تعریف کریں۔
اگر مریض کو شدید درد، چکر، سوجن، سانس کی تنگی یا شدید تھکن محسوس ہو تو حرکت فوراً روک دیں۔ دوبارہ شروع کرنے سے پہلے لازمی طور پر طبی مشورہ لیں۔

