تیمارداری کے سفر میں آپ کا ہم قدم

تیماردار کی تھکن (کیئر گیور برن آؤٹ)


تجدید شدہ:

|


تیماردار (کیئر گیورز) وہ انسانیت دوست لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کی دماغی یا جسمانی نگہداشت کرتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو کسی بیماری یا معذوری کی وجہ سے اپنے کام   خود سرانجام نہیں دے سکتے۔  لیکن لمبے عرصے تک بغیر کسی وقفے کے یہ ذمہ داری نبھانا تیماردار کو جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر نچوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ طبی اصطلاح میں اس کیفیت کو "کیئر گیور برن آؤٹ” (Caregiver Burnout) یا تیماردار کی تھکن کہا جاتا ہے۔

اکثر تیماردار اپنے مریض کی صحت کی فکر میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنی ذات، اپنی بھوک، اپنی نیند اور اپنے سکون کو بالکل بھول جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ایک تھکا ہوا، چڑچڑا اور بیمار تیماردار کبھی بھی ایک مریض کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال نہیں کر سکتا۔ اگر آپ بھی کسی پیارے کی تیمارداری کر رہے ہیں، تو یہ گائیڈ آپ کے لیے لکھی گئی ہے تاکہ آپ اس تھکن (کیئرگیور برن آؤٹ) کی علامات کو وقت پر پہچانیں اور اپنی صحت کو تباہ ہونے سے بچا سکیں۔

کیئر گیور برن آؤٹ کیا ہے؟


کیئرگیور برن آؤٹ کو سمجھنے سے پہلے ہم ایک نظر تیماردار کی ان ذمہ داریوں پر ڈالتے ہیں جو وہ پوری محنت اور محبت سے سرانجام دیتا ہے ۔ عام طور پر ایک دیکھ بھال کرنے والے (کیئر گیور) کے کردار میں درج ذیل کام شامل ہو سکتے ہیں:

  • مریض کے روزمرہ کے معمولات میں مدد کرنا ، جیسے کہ واش روم جانا، نہانا، کپڑے بدلنا یا بال بنانا۔
  • کھانا تیار کرنا۔
  • گھر کے کام کاج مکمل کرنا۔
  • مریض کی ادویات کا انتظام سنبھالنا۔
  • مالی معاملات (پیسوں) کا انتظام کرنا۔
  • آمد و رفت (ٹرانسپورٹ) کی سہولت فراہم کرنا۔
  • صحت کی نگرانی کرنا۔
  • مریض کو چیک اپ کے لیے ہسپتال لے کر جانا اور ڈاکٹرز کے ساتھ بات چیت کرنا ۔

اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف کہ کیئرگیور برن آؤٹ ہے کیا؟ جیسے ایک موم بتی روشنی تو فراہم کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی تھوڑی تھوڑی پگھلتی بھی رہتی ہے اور پھر وہ وقت آتا ہے کہ موم بتی کو خود اپنی زندگی  کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی  سادہ لفظوں میں، برن آؤٹ وہ حالت ہے، جب ایک تیماردار مسلسل ذہنی تناؤ، نیند کی کمی اور جسمانی مشقت کے باعث خود کو اندر سے بالکل خالی اور تھک کر چور محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ کوئی عام تھکن نہیں ہوتی جو ایک رات کی نیند سے ٹھیک ہو جائے، بلکہ یہ ایک مستقل ذہنی بوجھ ہے۔ یہ  بوجھ وقت کے ساتھ ساتھ تیماردار کے اندر چڑچڑاپن، مایوسی اور بعض اوقات مریض کے لیے بے حسی پیدا کر دیتا ہے۔

کیئر گیور برن آؤٹ کی علامات


جیسا کہ ہم جان چکے ہیں کہ برن آؤٹ اچانک نہیں ہوتا، بلکہ یہ آہستہ آہستہ اپنے پنجے گاڑتا ہے۔ بطور کیئرگیور آپ کو درج ذیل علامات پر نظر رکھنی چاہیے:

  • مستقل جسمانی تھکن: صبح اٹھنے کے بعد بھی خود کو تھکا ہوا محسوس کرنا اور جسم میں توانائی کی شدید کمی پانا۔
  • ذہنی اور جذباتی تبدیلیاں: چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آنا، صبر کا دامن چھوٹ جانا، یا خود کو بے بس اور لاچار محسوس کرنا۔
  • نیند کے مسائل: تھکن کے باوجود رات کو نیند نہ آنا یا بار بار آنکھ کھل جانا۔
  • سماجی دوری: دوستوں، رشتہ داروں اور ان سرگرمیوں سے خود کو الگ کر لینا جو کبھی آپ کو خوشی دیتی تھیں۔
  • احساسِ جرم: ہر وقت یہ محسوس کرنا کہ شاید آپ اپنے مریض کی دیکھ بھال ٹھیک سے نہیں کر پا رہے، حالانکہ آپ اپنی بساط سے بڑھ کر کام کر رہے ہوں۔
  • صحت کی خرابی: سر درد، کندھوں اور کمر میں مستقل درد، یا بار بار بیمار پڑنا (کیونکہ ذہنی تناؤ سے قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی ہے)۔

برن آؤٹ کی بنیادی وجوہات


کیئرگیور برن آؤٹ کی بڑی وجوہات میں صرف مسلسل ذہنی تناؤ، نیند کی کمی اور کام کی زیادتی ہی نہیں بلکہ  کچھ دیگر عوامل بھی اس میں شامل ہیں۔ ایک ہوم کیئر گیور اس حد تک تھکن کا شکار کیوں ہوتا ہے؟ اس کی چند  دیگر اہم وجوہات یہ ہیں:

حقیقت سے دور توقعات:

بہت سے تیماردار یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی دن رات کی محنت سے مریض (خصوصاً کینسر کے آخری مراحل، ڈیمنشیا یا فالج کے مریض) فوراً ٹھیک ہو جائے گا۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

کردار کا الجھاؤ:

اکثر اوقات تیماردار کو اپنا کردار سمجھ میں نہیں آ رہا ہوتا۔ ایک بیٹا، بیٹی، یا شریکِ حیات جب اچانک ایک فل ٹائم نرس یا کیئرگیور بن جاتا ہے، تو اس کے لیے اپنے پرانے رشتے اور نئے فرائض کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کنٹرول کا نہ ہونا:

یہ احساس کہ اسے مریض کی بیماری سے نمٹنے کے لیے دیکھ بھال کی مہارتیں حاصل نہیں ۔  پیسے کی تنگی، وسائل کی کمی اور بیماری کے اتار چڑھاؤ پر اختیار نہ ہونا تیماردار کو ذہنی طور پر نڈھال کر دیتا ہے۔

مدد نہ مانگنا:

ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر کسی نے مریض کی دیکھ بھال کے لیے دوسروں سے مدد مانگی تو شاید وہ ایک اچھا بیٹا، بیٹی یا شریکِ حیات نہیں ہے۔ یہ سوچ تیماردار پر اکیلے ہی سارا بوجھ ڈال دیتی ہے۔

 برن آؤٹ سے نمٹنے کے عملی طریقے


اگر آپ اوپر دی گئی علامات خود میں محسوس کر رہے ہیں، تو اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنے لیے کچھ اہم فیصلے کریں:

ریسپائٹ کیئر (وقتی امداد) کا استعمال کریں

سارا بوجھ اپنے کندھوں پر نہ لادیں۔ خاندان کے دیگر افراد، دوستوں یا کسی پیشہ ور نرس کی مدد حاصل کریں۔ ہفتے میں چند گھنٹے یا مہینے میں ایک دن کے لیے دیکھ بھال کی ذمہ داری کسی اور کو سونپیں اور اپنے لیے وقت نکالیں۔ اسے ریسپائٹ کیئر (Respite Care) کہتے ہیں اور یہ آپ کا بنیادی حق ہے۔

اپنی حدیں مقرر کریں

ہر انسان کی ایک حد ہوتی ہے۔ اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیت سے زیادہ کام کا بوجھ اپنے اوپر نہ ڈالیں۔ اگر آپ سے کوئی کام نہیں ہو پا رہا، تو  احساس ندامت کا شکار ہوئے بغیر نرم لہجے میں "نہ” کہنا سیکھیں یا دوسرے رشتہ داروں کو اس کا حصہ دار بنائیں۔

اپنی بنیادی صحت کو ترجیح دیں

  • نیند پوری کریں: جتنا ممکن ہو سکے اپنی نیند کا شیڈول بہتر بنائیں۔
  • صحت بخش غذا: وقت پر کھانا کھائیں اور خود کو ہائیڈریٹ رکھیں۔
  • طبی معائنہ: اگر آپ خود بیمار محسوس کر رہے ہیں، تو ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں تاخیر نہ کریں۔

اپنے جذبات کا اظہار کریں

اپنے دل کی بات کسی قریبی دوست، فیملی ممبر یا کسی دوسرے کیئرگیور سے شیئر کریں۔ بسا اوقات صرف کسی کا آپ کی بات سن لینا ہی آپ کے سر سے آدھا بوجھ اتار دیتا ہے۔

 اہم ترین نصیحت


یاد رکھیں: جب ہوائی جہاز میں سفر کے دوران آکسیجن کا دباؤ کم ہوتا ہے، تو سب سے پہلے اپنا آکسیجن ماسک لگانے کی ہدایت کی جاتی ہے، اس کے بعد بچوں یا دوسروں کی۔ یہی اصول تیمارداری کا ہے؛ اگر آپ خود سانس نہیں لے پائیں گے، تو اپنے پیارے کو زندگی کیسے دیں گے؟ اپنی دیکھ بھال کرنا خود غرضی نہیں، بلکہ بہترین تیمارداری کی پہلی شرط ہے۔

حوالہ جات