بڑھتی عمر کے ساتھ چیزیں رکھ کر بھول جانا، کسی کا نام ذہن سے نکل جانا یا گفتگو کے دوران صحیح لفظ یاد نہ آنا ایک عام سی بات ہے۔ اکثر گھروں میں جب بزرگ بھولنے لگتے ہیں تو اسے محض "بڑھاپے کا اثر” سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن بسا اوقات یہ بھولنے کی بیماری یعنی الزائمر (Alzheimer’s) یا ڈیمنشیا (Dementia) کی پہلی خاموش دستک ہو سکتی ہے۔
ڈیمنشیا یا الزائمر کی علامات کی وقت پر پہچان نہ صرف مریض کی دیکھ بھال میں آسانیاں پیدا کرتی ہے بلکہ بروقت علاج سے بیماری کی رفتار کو بھی سست کیا جا سکتا ہے۔ بطور کیئرگیور، آپ کے لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ بزرگوں میں عام بھول چوک اور الزائمر کی سنگین علامات میں کیا فرق ہے تاکہ آپ اپنے پیاروں کی بروقت مدد کر سکیں۔
ڈیمنشیا اور الزائمر میں فرق
عام طور پر ان دونوں الفاظ کو ایک ہی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن طبی لحاظ سے ان میں تھوڑا فرق ہے:
ڈیمنشیا (Dementia):
یاداشت کی کمزوری، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا کم ہو جانا اور روزمرہ زندگی کے فیصلے مشکل یا ناممکن ہو جانا دماغ کے کمزور ہونے کی علامات ہیں۔ دماغی کمزوری کی یہ علامات کسی بھی دماغی مرض کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔ دماغی کمزوری کی ان علامات یا حالات کو مجموعی طور پر ڈیمنشیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔
الزائمر (Alzheimer’s):
الزائمر دماغ کی ایسی بیماری ہے جس میں دماغ کے خلیات آہستہ آہستہ ناکارہ ہونے لگتے ہیں جس سے مریض کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔یہ ڈیمنشیا کی سب سے عام قسم ہے۔ تقریباً 60 سے 80 فیصد ڈیمنشیا (دماغی کمزوری) کے مریض الزائمر کا ہی شکار ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ مرض ابھی تک لاعلاج ہے تاہم بروقت ادویات کے استعمال سے اس کی رفتار کو سست کیا جاسکتا ہے۔
الزائمر وقت کے ساتھ بڑھتا ہے
الزائمر کی بیماری عموماً 65 سال یا اس سے زائد عمر میں ظاہر ہوتی ہے، لیکن کچھ مخصوص اور نایاب کیسز میں یہ اس عمر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے ڈیمنشیا (دماغی کمزوری) کی علامات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدید ہوتی جاتی ہیں۔ شروع شروع میں یادداشت میں معمولی سی کمی آتی ہے اور مریض کو حالیہ واقعات یا بات چیت کو یاد رکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ الزائمر کا شکار مریض اپنے ماحول اور ارد گرد کے حالات سے بے خبر ہوتا جاتا ہے اور بالآخر مکمل طور پر دوسروں کی دیکھ بھال کا محتاج ہو جاتا ہے۔
الزائمر کی ابتدائی علامات
اگر آپ کے گھر کے کسی بزرگ میں درج ذیل علامات مسلسل نظر آ رہی ہیں، تو اسے محض بڑھاپا نہ سمجھیں۔ یہ علامات وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ سنگین ہو سکتی ہیں۔
روزمرہ یادداشت کی شدید خرابی
معمولی چیزیں بھولنا اور بعد میں یاد آ جانا عام بات ہے۔ لیکن حال ہی میں پیش آنے والے واقعات، بات چیت، یا بار بار ایک ہی سوال پوچھنا الزائمر کی واضح علامت ہے۔
جانے پہچانے راستوں پر بھٹک جانا
اپنے ہی محلے، گلی یا گھر کے قریب جا کر راستہ بھول جانا، یا یہ بھول جانا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں اور وہاں کیسے پہنچے۔
روزمرہ کاموں کی ترتیب بھولنا
ان کاموں کو کرنے میں دشواری ہونا جو وہ سالوں سے کرتے آ رہے ہیں؛ جیسے چائے بنانے کا طریقہ بھول جانا، ادویات کا وقت یاد نہ رہنا، یا گھر کا بجٹ نہ سنبھال پانا۔
وقت اور جگہ کا اندازہ نہ رہنا
تاریخ، دن، سال یا موسم کا احساس نہ رہنا۔ مریض کو اکثر یہ اندازہ نہیں رہتا کہ وقت کتنی تیزی سے گزر رہا ہے۔
اشیاء کو غیر متعلقہ جگہوں پر رکھنا
چابیاں فریج میں رکھ دینا، عینک جوتوں والے ریک میں ڈال دینا اور بعد میں یہ نہ یاد آنا کہ انہوں نے وہ چیز کہاں رکھی تھی، بلکہ دوسروں پر چوری کا شک کرنا۔
مزاج اور شخصیت میں اچانک تبدیلی
بغیر کسی بڑی وجہ کے شدید چڑچڑاپن، شک، خوف، اینگزائٹی یا یکدم اداس ہو جانا۔ اس وجہ سے وہ اپنے پیاروں سے بھی دوری اختیار کرنے لگتے ہیں۔
محفوظ شدہ صلاحیتیں
الزائمر کا مریض اپنے ماحول سے بے پرواہ ہو جاتا ہے لیکن بعض اوقات حیران کن طور پراس کی کچھ صلاحیتیں برقرار رہتی ہیں۔ وہ ماضی کے کچھ قصے سناتا ہے، کتابیں پڑھتا ہے، گانے سنتا یا گاتا ہے، کوئی تخلیقی کام کرتا ہے۔ ایسی صلاحیتیوں کو محفوظ شدہ صلاحیتیں کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً بیماری کے آخری سٹیج کے بعد تک بھی برقرار رہ سکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ دماغ کے اس حصہ میں محفوظ ہوتی ہیں جسے ابھی تک الزائمر کی وجہ سے نقصان نہیں پہنچا ہوتا۔
عام بھول چُوک بمقابلہ الزائمر
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ یاداشت میں کمی ہونا اکثر لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ اس عام بھول چُوک اور الزائمر (ڈیمنشیا) میں فرق کو جاننے اور مریض کی حالت کو بہتر سمجھنے کے لیے اس کا موازنہ درج ذیل ٹیبل سے کریں:
| عام عمر رسیدہ بھول چُوک | الزائمر / ڈیمنشیا کی علامات |
| کسی کا نام یا اپوائنٹمنٹ بھولنا لیکن بعد میں یاد آ جانا۔ | نئی معلومات اور واقعات کو مکمل طور پر بھول جانا۔ |
| گفتگو کے دوران کبھی کبھار صحیح لفظ کی تلاش میں دقت ہونا۔ | بات کرتے کرتے بیچ میں رک جانا یا ایک ہی بات بار بار دہرانا۔ |
| کبھی کبھار حساب کتاب میں غلطی ہو جانا۔ | پیسوں یا مالی معاملات کو بالکل نہ سنبھال پانا۔ |
| کبھی کبھار ہفتے کا دن بھول جانا لیکن بعد میں پتہ چل جانا۔ | وقت، سال یا موسم کا بالکل اندازہ نہ رہنا۔ |
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
یاداشت کی کمی کی اور بھی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس لیے اگر آپ کو اپنے کسی فیملی ممبر میں یہ علامات نظر آئیں تو گھبرانے کے بجائے سب سے پہلے کسی مستند نیورولوجسٹ (Neurologist) یا ماہرِ نفسیات سے رابطہ کریں۔ ڈاکٹر مختلف ٹیسٹوں، ایم آر آئی (MRI) اور ذہن کی صلاحیت جانچنے کے ٹیسٹوں کی مدد سے یہ تصدیق کرتے ہیں کہ آیا یہ واقعی الزائمر ہے ، کسی اور بیماری کا اثر ہے یا جسم میں کسی وٹامن کی کمی یا تھائیرائڈ جیسے مسائل کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔
مریض کو ذہنی طور پر سہارا دینے اور علاج کی تیاری کے لیے ہماری گائیڈ "کینسر کی تشخیص: انکار سے حقیقت کی قبولیت تک” کا مطالعہ ضرور کریں۔
تیمارداروں کے لیے اہم مشورہ
یاد رکھیں: الزائمر کا مریض اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوتا۔ وہ جو کچھ بھی بولتا یا کرتا ہے، وہ اس کی مرضی نہیں ہوتی بلکہ اس کے دماغ میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں اس کا سبب ہوتی ہیں۔ مریض کے ساتھ غصہ، بحث یا ضد کرنے کے بجائے صبر، محبت اور پرسکون انداز اختیار کریں۔ انہیں یہ باور کرائیں کہ وہ محفوظ ہیں اور آپ ان کے ساتھ ہیں۔
تیماردار اپنے آپ کو غصہ، بحث یا ضد سے کیسے بچائیں؟ جانیے ہماری گائیڈ "تیماردار کی تھکن (کیئر گیور برن آؤٹ)” میں۔
حوالہ جات
- الزائمر ایسوسی ایشن (Alzheimer’s Association): الزائمر کی 10 ابتدائی علامات اور نشانیاں
- میو کلینک (Mayo Clinic): الزائمر کی علامات اور وجوہات
- نیشنل انسٹیٹیوٹ آن ایجنگ (NIH): الزائمرکی بیماری ۔ طبی حقائق
ضروری نوٹ: اس مضمون کا مقصد عام تعلیمی آگاہی اور معلومات فراہم کرنا ہے۔ یہ کسی طبی تشخیص کا متبادل نہیں ہے۔ اگر آپ کو اپنے پیاروں کی یادداشت میں واضح تبدیلی نظر آئے تو ہمیشہ مستند معالج سے رجوع کریں۔
