بستر کے زخم (Bedsores) اور اس سے بچاؤ کے طریقے

تیماردار ایک بزرگ خاتون کی نگہداشت کرتے ہوئے جس کی کہنی پر بستر کے زخم (Bedsores) ہوئے ہیں۔

گھر میں کسی بزرگ یا مریض کی دیکھ بھال کرنا جہاں ثواب کا کام ہے، وہاں یہ کچھ اضافی توجہ بھی مانگتا ہے۔ جب کوئی مریض طویل عرصے تک ایک ہی پوزیشن میں بستر پر لیٹا رہتا ہے، تو جسم کے کچھ حصوں (جیسے کولہے، ایڑیاں یا کمر کا نچلا حصہ) پر مسلسل دباؤ پڑنے سے وہاں کی جلد سرخ ہونے لگتی ہے۔ اسے ہم  بستر کے زخم (Bedsores) یا ‘پریشر السر’  کہتے ہیں۔

اچھی خبر یہ ہے کہ تھوڑی سی احتیاط اور روزمرہ کی روٹین میں معمولی تبدیلیوں سے بستر کے 95 فیصد زخموں کو پیدا ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کیسے۔

کیا بستر کے زخم (Bedsores) ٹھیک ہو سکتے ہیں؟ (تیمارداروں کے لیے ایک پیغام)

اگر آپ کے مریض کو بستر کے زخم ہو گئے ہیں، تو سب سے پہلے خود کو پرسکون رکھیں۔ یہ یاد رکھیے کہ بستر کے زخم (Bedsores) کوئی لاعلاج مرض نہیں ہیں، بلکہ یہ جسم کی طرف سے ایک پکار ہے کہ اسے اب زیادہ توجہ اور مختلف پوزیشن کی ضرورت ہے۔ چاہے زخم گہرا ہی کیوں نہ ہو، صحیح دیکھ بھال، اچھی غذا اور مستقل مزاجی سے یہ زخم نہ صرف بھر جاتے ہیں بلکہ جلد دوبارہ تندرست ہو جاتی ہے۔ بہت سے مریض جنہوں نے مہینوں بستر پر گزارے، وہ ان زخموں سے نجات پا کر دوبارہ ایک سکون دہ زندگی کی طرف لوٹے ہیں۔ بس آپ کی ہمت اور تھوڑی سی اضافی توجہ کی ضرورت ہے!

بستر کے زخموں (Bedsores)کی علامات کیا ہوتی ہیں؟


ایک تیمار دار کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ  بستر کے زخم (Bedsores)کی نمایاں علامات کو جانتا ہو۔ اگر کسی مریض میں درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو یہ بستر کے زخموں کی علامت ہو سکتی ہیں:

  • جلد کی رنگت (سرخی یا سیاہی) یا ساخت (Texture) میں تبدیلی۔ ، چھالے، نیل، یا جلد کا پھٹنا اور خشک ہونا ۔
  • متاثرہ جگہ پر سوجن ہونا۔
  • زخم سے پیپ جیسا مواد خارج ہونا۔
  • متاثرہ جگہ کا جسم کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈا یا گرم محسوس ہونا۔
  • جلد پر ایسے نشانات یا دھبوں کا بننا جن میں شدید درد ہو۔

بستر کے زخم (Bedsores)کے عام مقامات


زیادہ خطرے والے حصے: جسم کے وہ حصے جہاں ہڈیاں جلد کے قریب ہوتی ہیں وہاں بستر کے زخم (Bedsores) ہونے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں، جیسے:

  • کمر کا نچلا حصہ (Sacrum) اور ریڑھ کی ہڈی کی آخری ہڈی (Tailbone)
  • ایڑیاں اور پیروں کی ہڈیاں
  • کولہے کی ہڈیاں (Ischium اور Trochanter)
  • کہنیاں اور گھٹنے
  • سر کا پچھلا حصہ

اگر خدانخواستہ بستر کے زخم (Bedsores) ظاہر ہونا شروع ہو جائیں، تو ایک تیماردار کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اب مقصد صرف بچاؤ نہیں بلکہ زخم کو مزید بگڑنے سے روکنا اور اسے بھرنے (Heal ہونے) میں مدد دینا ہے۔

یہاں کچھ ایسے عملی طریقے اور احتیاطیں دی گئی ہیں جو تکلیف کو کم کرنے اور زخم کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:

1. مریض کی کروٹ بدلنا سب سے اہم ہے


بستر کے زخموں (Bedsores)کی سب سے بڑی وجہ ‘مسلسل دباؤ’ ہے، اس لیے  سب سے پہلا اور اہم اصول یہ ہے کہ جس جگہ زخم ہو گیا ہے، اس پر سے بوجھ ختم کیا جائے اور اسے اب بالکل آرام دیا جائے۔ اگر زخم کمر کے نچلے حصے پر ہے، تو مریض کو کمر کے بل نہ لٹائیں بلکہ اسے کروٹ پر رکھیں۔ جب تک وہ جگہ بالکل ٹھیک نہ ہو جائے، اس پر جسم کا وزن نہیں آنا چاہیے۔

  کروٹ بدلنے اور دباؤ کم رکھنے کا دورانیہ زخم کی حالت اور جلد کی برداشت پر منحصر ہوتا ہے، جو کہ ہر  2 سے 6 گھنٹوں بعد تک ہو سکتا ہے۔  زیادہ حساس جلد کے مریضوں کی ہر دو گھنٹے بعد پوزیشن تبدیل کریں، اس میں کوتاہی نہ کریں اور یاد دہانی کے لیے اگر الارم لگانا پڑے تو لگائیں۔ اگر وہ سیدھا لیٹا ہے، تو اسے دائیں یا بائیں کروٹ دلائیں۔ اس سے جسم کے مخصوص حصوں پر پڑنے والا بوجھ بٹ جاتا ہے اور خون کی گردش بہتر ہوتی ہے۔ وہیل چیئر پر بیٹھے مریض کو ہر 15 سے 30 منٹ بعد کم از کم 30 سے 90 سیکنڈ کے لیے پریشر ریلیف کرنا چاہیے۔ کار میں یا کسی بھی دوسری جگہ بیٹھتے ہوئےبھی  اسے جاری رکھیں۔

کیا صرف بوجھ ختم کرنے سے زخم ٹھیک ہو جاتے ہیں؟

صرف بوجھ ختم کرنے سے زخم ٹھیک ہوں گے یا ڈاکٹر کی ضرورت پڑے گی؟ اس کا جواب زخم کی نوعیت پر ہے:

  • صرف دباؤ ختم کرنے سے (ابتدائی مرحلہ): اگر زخم صرف سرخ نشان کی صورت میں ہے اور ابھی کھلا نہیں ہے، تو صرف پوزیشن کی تبدیلی (دو گھنٹے بعد کروٹ)، خون کی سرکولیشن بہتر بنانے اور رگڑ ختم کرنے سے ہی یہ خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ خون کی سرکولیشن ہی اصل علاج ہے۔ جب ہم دباؤ ہٹاتے ہیں، تو اس جگہ خون دوبارہ پہنچتا ہے جو آکسیجن اور غذائیت لے کر آتا ہے، اور یہی چیز زخم کو "ہیل” (Heal) کرتی ہے۔
  • ڈاکٹر اور ادویات (دوسرا مرحلہ): اگر جلد پھٹ جائے یا زخم گہرا ہو ہو یا اس میں سے پانی/پیپ نکلے، تو ڈاکٹر سے پٹی کروانا اور ادویات لینا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن دونوں صورتوں میں مکمل صحت یابی ممکن ہے!

اگر آپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کسی مخصوص حصے پر دباؤ کیسے ختم کیا جائے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے اس کے بارے میں ہدایات لیں۔

2. جلد کو خشک، ہوادار  اور صاف رکھیں


نمی بستر کے زخموں (Bedsores)کی بہترین دوست ہے۔ اگر مریض کو پسینہ زیادہ آتا ہے یا وہ ڈائپر استعمال کر رہے ہیں، تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ان کی جلد گیلی نہ رہے۔ صفائی کے دوران جلد کو رگڑنے کے بجائے نرمی سے تھپتھپا کر خشک کریں۔ یاد رکھیں، صاف اور خشک جلد پر انفیکشن یا  زخم ہونے کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں۔

اگر زخم بن چکے ہیں تو زخم کو ہر وقت پٹیوں یا کپڑوں میں دبا کر نہ رکھیں۔ دن میں کچھ وقت کے لیے اسے کھلا چھوڑ دیں تاکہ تازہ ہوا لگے۔ نمی اور پسینہ زخم کو خراب کر سکتے ہیں، اس لیے کوشش کریں کہ زخم والی جگہ خشک اور ہوا دار رہے۔

زخم کو صاف کرنے کے لیے عام صابن یا تیز اینٹی سیپٹک (جیسے پائیوڈین یا ڈیٹول کا براہِ راست استعمال) بعض اوقات جلد کو بہت زیادہ خشک کر دیتا ہے۔ بہتر ہے کہ نارمل سیلائن (Normal Saline) یعنی نمکین پانی سے زخم کو نرمی سے صاف کیا جائے تاکہ وہاں موجود جراثیم ختم ہوں اور مردہ خلیات صاف ہو جائیں۔ تاہم زخم صاف کرنے کے لیے کسی بھی محلول کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کریں۔

3. بستر کی سلوٹیں دور کریں


کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ بستر کی چادر پر موجود ایک معمولی سی سلوٹ بھی لیٹنے والے کو چبھ سکتی ہے؟ مریض کے بستر کی چادر بالکل صاف اور کھنچی ہوئی ہونی چاہیے۔ چادر پر گرے ہوئے کھانے کے ذرات یا سلوٹیں جلد پر رگڑ پیدا کرتی ہیں جو بعد میں زخم کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

4. نرم تکیوں اور کشن کا استعمال


جسم کے وہ حصے جہاں ہڈیاں جلد کے قریب ہوتی ہیں (جیسے گھٹنے یا ٹخنے)، وہاں چھوٹے نرم تکیے رکھیں۔ مثال کے طور پر، دونوں ٹانگوں کے درمیان تکیہ رکھنے سے گھٹنے ایک دوسرے سے نہیں ٹکرائیں گے اور رگڑ سے بچے رہیں گے۔ آج کل مارکیٹ میں ہوا والے گدے (Air Mattress) بھی دستیاب ہیں جو اس سلسلے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ سوراخ والا تکیہ (Donut Cushion) رکھنے سے زخم کو آرام ملے گا، لیکن طبی ماہرین اب اسے غلط قرار دیتے ہیں۔ یہ کشن زخم کے گرد خون کی گردش کو روک دیتا ہے، جس سے زخم بھرنے کے بجائے مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ اس کے بجائے نرم فوم یا ایئر کشن استعمال کریں۔

5. درد میں کمی کے طریقے


بستر کے زخم (Bedsores)کی تکلیف بہت شدید ہو سکتی ہے۔ مریض کا رخ تبدیل کرتے وقت جھٹکے سے گریز کریں۔ اگر مریض کو بہت زیادہ درد ہو رہا ہو تو ہلکے ہاتھ سے گرد و نواح (زخم کے اوپر نہیں) کی مالش کریں تاکہ خون کی گردش بہتر ہو اور تھکن کم ہو۔

6. اچھی غذا، مضبوط جلد


زخم بھرنے کے لیے جسم کو طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔  مریض کو ایسی غذا دیں جو پروٹین اور وٹامنز سے بھرپور ہو مثلاً انڈے، دودھ، دالیں اور گوشت  ۔ پروٹین نئی جلد بنانے میں اینٹوں کا کام کرتا ہے اور زخم بہت جلدی بھرتا ہے۔ مریض کو پانی کا استعمال زیادہ کروائیں۔ جب جسم ہائیڈریٹڈ رہتا ہے، تو جلد میں لچک برقرار رہتی ہے اور وہ جلد پھٹتی نہیں ہے۔ پھلوں کو مریض کی خوراک کا حصہ بنائیں (تازہ پھل زیادہ بہتر ہیں)۔ طبی مسائل مثلاً بلڈ پریشر یا ذیابیطس  وغیرہ کے شکار مریضوں کی غذا کا تعین کسی ماہر ِغذا کے مشورے سے کریں۔

7. روزانہ معائنہ کریں


مریض کو نہلاتے وقت یا کپڑے بدلتے وقت ان کے جسم کا غور سے معائنہ کریں۔ اگر آپ کو کہیں بھی جلد زیادہ سرخ نظر آئے یا وہاں سوجن محسوس ہو، تو فوراً الرٹ ہو جائیں۔ یہ بستر کے زخم (Bedsores)کی پہلی نشانی ہو سکتی ہے۔ اس حصے پر دباؤ کم کر دیں اور نمی سے بچائیں۔

ایک ضروری انتباہ (Warning Signs):


تیماردار کو نظر رکھنی چاہیے کہ اگر زخم میں سے درج ذیل نشانیاں نظر آئیں تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں:

  • زخم سے بدبو آنا۔
  • زخم کے گرد بہت زیادہ سرخی یا گرمائش محسوس ہونا۔
  • زخم سے پیپ (Pus) کا نکلنا۔
  • مریض کو بخار ہونا۔

آخری بات:


بستر کے زخموں کا علاج کرنے سے کہیں زیادہ آسان ان سے بچاؤ ہے۔ آپ کی تھوڑی سی توجہ اور محبت بھری دیکھ بھال مریض کو اس اضافی تکلیف سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ یاد رکھیں، آپ کا مقصد صرف علاج نہیں، بلکہ مریض کو ایک آرام دہ زندگی فراہم کرنا ہے۔

حوالہ جات:


اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل ذرائع /  ویب سائٹس سے مدد لی گئی ہے:

ماڈل سسٹمز نالج ٹرانسلیشن (MSKTC): پریشر سورز سے بچاؤ

میو کلینک (Mayo Clinic): بستر کے زخم (پریشر السرز)

امریکن فیملی فزیشن (AFP):پریشر انجریز (زخم): بچاؤ، تشخیص اور علاج