ہسپتال سے گھر تک کا سفر بظاہر ایک معمولی اور مختصر سا مرحلہ نظر آتا ہے، لیکن ایک ایسے مریض کے لیے جو ابھی ابھی ایک بڑے آپریشن یا تکلیف سے گزرا ہو، یہ چند کلومیٹر کا سفر بھی کسی کٹھن امتحان سے کم نہیں ہوتا۔ چونکہ ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ تیمار دار (Caregiver) کے اس مشکل اور ذمہ دارانہ سفر میں ہم ہر قدم پر ان کے ساتھ رہیں گے، اس لیے ہم نے اس نازک مرحلے کو بھی نظرانداز نہیں کیا۔
ہم نے اپنی گائیڈ "ہسپتال سے ڈسچارج کا دن” میں بتایا کہ آپریشن کا مرحلہ کامیابی سے گزر جانے کے ساتھ ہی تیماراداروں کے لیے ایک نئی ذمہ داری بھی شروع ہوتی ہے۔ مریض کے ہسپتال سے ڈسچاج ہونے کی تمام کاغذی کاروائی مکمل ہونے اور تیماردار کی ادویات اور دیگر احتیاطی تدابیر کو سمجھنے کے بعد اب مریض کو گھر لے جانے کا مرحلہ آ گیا ہے۔ بطور کیئرگیور (تیماردار)، اگر آپ چند بنیادی باتوں کا پہلے سے خیال رکھ لیں، تو آپ اس سفر کو اپنے پیاروں کے لیے محفوظ اور پرسکون بنا سکتے ہیں۔
1۔ سفر کی پہلے سے تیاری (روانگی سے قبل)
اگر ممکن ہو تو ڈسچارج کی کاغذی کارروائی کے دوران ہی آپ کو گاڑی اور سفر کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ اس تیاری کی ابتداء درست گاڑی کے انتخاب سے ہوتی ہے۔
عام گاڑی یا پرائیویٹ ایمبولینس؟ (درست فیصلے کا انتخاب):
مریض کے لیے گاڑی کا انتخاب مکمل طور پر مریض کی حالت پر منحصر ہے۔ ہر مریض کو عام گاڑی میں ہسپتال سے گھر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جہاں آپ کو ایمبولینس سروس کی خدمات حاصل کرنی چاہیے تاکہ مریض کو بنا کسی خطرے کے منتقل کیا جا سکے۔ تو آئیے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ وہ کون سے حالات ہیں جن میں ایمبولینس زیادہ محفوظ ذریعہ ہوگی۔
ایمبولینس کا انتظام کریں ، اگر:
- مریض کا لیٹے رہنا ضروری ہو: اگر ڈاکٹر نے مریض کو بیٹھنے سے منع کیا ہو یا ریڑھ کی ہڈی (Spine)، کولہے (Hip Fracture) یا ٹانگ کا بڑا آپریشن ہوا ہو جس کی وجہ سے مریض سیدھا بیٹھ نہ سکتا ہو، تو اسٹریچر والی ایمبولینس ہی واحد محفوظ راستہ ہے۔
- طبی آلات کی ضرورت ہو: اگر مریض کو گھر شفٹ ہوتے وقت بھی مسلسل آکسیجن سپورٹ، مانیٹرنگ، یا ڈرپ (IV Lines) کی ضرورت ہو، تو عام گاڑی میں سفر کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایمبولینس میں یہ تمام سہولیات اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہوتا ہے۔
- شدید درد اور جھٹکوں کا خطرہ ہو: اگر مریض کا آپریشن بہت بڑا ہے اور وہ معمولی سا جھٹکا بھی برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، تو ایمبولینس کی مخصوص سسپنشن (Suspension) عام گاڑی کے مقابلے میں جھٹکوں کو کافی حد تک کم کر دیتی ہے۔
- گھر میں لانے کا مسئلہ ہو: اگر آپ کا گھر کسی اپارٹمنٹ کی اوپری منزل پر ہے جہاں لفٹ نہیں ہے، یا سیڑھیاں تنگ ہیں، تو پرائیویٹ ایمبولینس کا عملہ مریض کو اسٹریچر یا مخصوص چیئر کے ذریعے بحفاظت کمرے تک پہنچانے کی ذمہ داری خود لیتا ہے۔
عام گاڑی کے ذریعے منتقلی :
اگر مریض کی حالت مستحکم ہے، وہ سہارے کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے اور اسے کسی لائف سپورٹ کی ضرورت نہیں، تو پھر عام گاڑی کا انتخاب کریں۔ ایسی گاڑی کا انتظام کریں جس میں بیٹھنا اور اترنا آسان ہو (جیسے سیڈان یا ڈگی والی گاڑیاں، جن کی سیٹیں نہ تو بہت اونچی ہوتی ہیں اور نہ ہی بہت نیچی)۔
- آرام دہ سامان کا بندوبست: گاڑی میں پہلے سے دو سے تین نرم تکیے (Cushions) اور ایک ہلکی چادر یا کمبل رکھ لیں۔ تکیے مریض کے زخم والے حصے کو سہارا دینے کے لیے بہت کام آتے ہیں۔
- راستے کا انتخاب: ہسپتال سے گھر تک کے لیے ایسے راستے کا انتخاب کریں جو مختصر ہو، جہاں ٹریفک کم ہو اور سڑک پر گڑھے یا سپیڈ بریکرز زیادہ نہ ہوں۔
2۔ مریض کو گاڑی میں بٹھانے کا درست طریقہ
مریض کو ہسپتال کے عملے کی مدد سے وہیل چیئر پر گاڑی تک لائیں۔اگر مریض کو ایمبولینس کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے تو ایمبولینس سٹاف کی ہدایات پر عمل کریں۔ لیکن اگر عام گاڑی میں مریض کو بٹھانا ہے تو درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں:
- فرنٹ سیٹ یا بیک سیٹ؟ سیٹ کا انتخاب مریض کی حالت پر ہے۔ عام طور پر فرنٹ سیٹ (آگے کی سیٹ) کو تھوڑا پیچھے لیٹا کر مریض کو بٹھانا سب سے بہتر رہتا ہے کیونکہ وہاں ٹانگیں پھیلانے کی جگہ زیادہ ہوتی ہے۔ اگر مریض لیٹنا چاہے، تو پچھلی سیٹ استعمال کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ محفوظ ہو۔
- تکیے کا استعمال: اگر مریض کے پیٹ یا سینے کا آپریشن ہوا ہے، تو ایک نرم تکیہ ان کے پیٹ پر رکھ دیں اور انہیں کہیں کہ وہ اسے ہلکے ہاتھ سے پکڑ کر رکھیں۔ یہ تکیہ گاڑی کی اچانک بریک یا جھٹکے کی صورت میں ٹانکوں پر دباؤ پڑنے سے روکتا ہے۔
- سیٹ بیلٹ کی احتیاط: سیٹ بیلٹ لگانا قانونی اور حفاظتی طور پر لازمی ہے۔ تاہم، یہ یقینی بنائیں کہ بیلٹ کا دباؤ براہ راست آپریشن کے زخم یا ٹانکوں پر نہ آ رہا ہو۔ بیلٹ کے نیچے ایک چھوٹا تکیہ یا تولیہ تہہ کر کے رکھا جا سکتا ہے۔
3۔ دورانِ سفر ڈرائیونگ کا انداز
اس سفر میں ڈرائیور کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ایمبولینس کے ڈرائیورز تجربہ کار ہوتے ہیں اور ایمبولینس کی مخصوص سسپنشن کی بدولت جھٹکے بھی کم لگتے ہیں۔ لیکن اگر عام گاڑی میں سفر کر رہے ہیں تو ڈرائیور کو سخت ہدایات دیں کہ:
- رفتار دھیمی رکھیں: گاڑی کی رفتار عام دنوں کے مقابلے میں کافی کم ہونی چاہیے۔
- سپیڈ بریکر پر خاص احتیاط: سپیڈ بریکر یا گڑھے کے قریب گاڑی کو تقریباً روک دیں اور بالکل آہستہ سے گزاریں۔
- موڑ کاٹتے وقت: گاڑی کو موڑتے وقت رفتار کو بالکل کم رکھیں تاکہ مریض کا توازن خراب نہ ہو۔
4۔ گھر پہنچنے پر گاڑی سے اتارنا
ہسپتال سے گھر تک کے سفر کا آخری مرحلہ مریض کو محفوظ طریقے سے اتارنا ہے۔ اس مرحلے پر بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں:
- جلد بازی سے گریز: مریض کو گاڑی سے نکلنے کے لیے پورا وقت دیں۔ انہیں خود ہلنے جلنے پر مجبور نہ کریں، بلکہ سہارا دیں۔
- راستہ صاف رکھیں: گاڑی سے لے کر گھر کے کمرے تک کا راستہ بالکل صاف ہونا چاہیے، وہاں کوئی قالین کا کونا، کھلونے یا ایسی چیز نہ ہو جس سے پیر پھسلنے کا ڈر ہو۔
آخری بات
آپریشن کے بعد مریض جسمانی اور ذہنی طور پر کافی حساس ہوتا ہے۔ ہسپتال سے گھر کا یہ سفر ان کے لیے تھکا دینے والا ہو سکتا ہے۔ چاہے آپ عام گاڑی کا انتخاب کریں یا مریض کی سہولت کے لیے پرائیویٹ ایمبولینس کا، اصل مقصد سفر کو ہر ممکن حد تک پرسکون اور محفوظ بنانا ہے۔
بطور تیماردار، آپ کی پہلے سے کی گئی تھوڑی سی منصوبہ بندی، ڈرائیونگ میں احتیاط اور صحیح وقت پر درست فیصلہ (جیسے گاڑی یا ایمبولینس کا انتخاب) مریض کو کسی بھی بڑی تکلیف یا ٹانکوں کے نقصان سے بچا سکتا ہے۔ یاد رکھیے، ہسپتال سے نکلنے کے بعد آپ کی یہ محبت، توجہ اور دیکھ بھال ہی مریض کی جلد اور مکمل شفایابی کی بنیاد بنتی ہے۔

